آہ! مولانا وحید الدین خان صاحب. ایک عہد دانش کو الوداع!!

99

تحریر :خورشید انور ندوی
22 اپریل 2021
آہ! مولانا وحید الدین خان صاحب.
ایک عہد دانش کو الوداع!!
سیاہی شب اور سپیدہ سحر، عالم رنگ وبو کے ہی نہیں انسان کی زندگی کے بھی دو رخ ہیں.. خدا نے زندگی کے ساتھ موت تخلیق کی اور اس کو عرض اور جوہر یا شئی اور سایہ کی طرف ہمراہ کیا.. زندگی کی سب سے بڑی سچائی موت ہے.. لیکن زندگی کی مہلت یا موت کے فاصلے کی درمیانی مدت ہی زندگی کی معنویت اور قدروقیمت طے کرتی ہے.. انسان کو بہت ساری باتیں امتیاز بخشتی ہیں.. لیکن دوام صرف اس کی سوچ، سوچ کے زاوئے، فکر اور اس کی طرحداری بخشتی ہے.. زندگی دھوپ چھاؤں کا کھیل نہیں، خدا کی مشیت، اور اس کے قانون کی عملداری کا نام ہے..مومن انسان کے لئے خدا کی خلافت ایک انعام سے بڑھ کر ایک ذمہ داری کا نام ہے.. مولانا وحیدالدین خان مرحوم، ساری زندگی، کارخانہ فطرت کے اس راز دروں کے افشا اور اس کی پرتوں کی کرید میں مصروف رہے.. اللہ تعالیٰ نے ان کو علم دین کے ساتھ ساتھ نوامیس کون میں مومنانہ تدبر کا ملکہ عطا فرمایا تھا.. وہ خدا کو اس کی خدائی کی معرفت دیکھنے کے عادی تھے.. ان کی اٹھان ایسی ہی تھی.. “علم جدید کا چیلنچ” تو یہی بتاتا ہے.. مرحوم کے ایک چاہنے والے کی حیثیت سے میری تمنا رہی کہ وہ علم جدید کے چیلیجز پر اپنی زندگی صرف کرتے تو ہم کور چشموں کو مزید بصیرتیں دے کر جاتے.. انھوں نے زندگی کو خوب دریافت کیا.. اور بہتوں کو راہ دکھا گئے.. ان کا قلم جادو نگار تھا.. ان کا اسلوب منفرد تھا.. چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑی بڑی حکمت ودانش کشید کرلیتے تھے، یہ ان کا ہنر تھا.. اس مختصر زندگی میں جو کچھ کیا جاسکتا ہے، مرحوم نے اس سے بہت زیادہ کردیا ہے.. آگے آنے والی نسلیں ان کے افکار سے روشنی حاصل کرتی رہیں گی.. اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے.. ان کے تمام کاموں کو قبولیت سے سرفراز کرے اور اپنے دین کے خدمت گاروں میں ان کا نام اوپر رکھے….
إنا للہ وإنا الیہ راجعون.