آہ!!!! زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے شاہد عادل قاسمی پرنسپل یتیم خانہ ارریہ

39

 

ہو بہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟
اٹھ گیا ناوک فگن مارےگا دل پر تیر کون؟
3/اپریل کا دوپہر اتنا غم اندوہ خبر لیکر وارد ہوگاحا شیہ۶ خیال میں بھی نہیں تھا، دسترخوان پر ہی ایک رنگ بجی اور یہ دلسوز خبر کانوں کو پگھلا گئی، یقین تو جلد نہیں ہوا لیکن خبر کی رفتار اتنی تیز تھی کہ پورا شہر بلبلا اٹھا اور اناللہ واناالیہ راجعوں کی آواز سے گونج اٹھا ،حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے جیسے اعلان سے شہر شہر کا بچہ بچہ غم زدہ اور روہانساہوگیا
5/جوں 1943میں یہ روشن چراغ حضرت امیر شریعت مولانا سید محمدمنت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ کے گھر جلا تھا، آپ شروع سے ہی ذہین وفطین اور مطیع و فرمانبردار تھے،آپ جہاں علوم دینیہ کے ماہر تھے وہیں علوم عصریہ کے بھی آپ مشاق تھے ،دارلعلوم دیوبند کی طالب علمی کا دور ہو یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا زمانہ ، ہر جگہ آپنے نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے، آپ کےخانوادے کا احسان ملک پر بہتیرے ہیں،حضرت علی کرم اللہ وجہ سے آپ کا شجرہ ملتا ہے، پیران پیر حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ سے آپ کی نسبت ہے ،آپ کے جد امجد حضرت مولانا محمد علی مونگیر ی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی ہیں ،ملک کو آزاد کرنے ، قوم کو مضبوط عقائد پر مستحکم کرنے اور بیعت و سلوک کے راہ پر لانے کیلئے آپ کے خاندان کا ملک عزیز پر بڑا احسان ہے،1991میں اس وقت کے امیر شریعت آپ کے والد محترم جناب حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی کے انتقال کے بعد آپنے خانقاہ رحمانی کا نظام اپنے ہاتھوں لیا اور آپ سجّادہ نشین منتخب ہوئے،جبکہ اس وقت آپ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے اور آپ 1974سے 1996تک بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن رکین رہے ہیں، آپ حضرت امیر شریعت مولانا نظام الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دور میں نائب امیر شریعت رہے ہیں ،2015سے بہار جھارکھنڈ اور اُڑیشہ کے امیر شریعت ہیں،امارت شر عیه نے آپکے دور میں ترقی کے کافی منازل طئے کیے ہیں،آپ نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کلیدی عہدہ جنرل سیکرٹری پر فائز رہ کر وہ کارنامہ انجام دیا ہے جسے کبھی تاریخ فراموش نہیں کر سکتی،آپکی وہ نڈر اور بے خوف وخطر نگاھیں جب حکومت ہند کی آنکھوں سے آنکھیں ملاکر باتیں کرتی تھیں کیا مجال ہے کوئی شیر ببر بھی ایسا رخ ابنا سکے،آپکا وہ سینہ جو ظالم و جابر کے سامنے تن جایا کرتا تھا کیا ہمت ہے کوئی کھڑا بھی رہ جائے،آپ کا وہ ٹیڑھاعصا جو بڑے سے بڑے سورما کو گھٹنا ٹیکنے پر مجبور کردیتا تھا کیا مجال کوئی سیدھا کھڑابھی رہ جائے،ملک میں جب بھی کوئی حالات آئے ہیں آپنے جمہوریت کی بقاء اور ملک کی سالمیت کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، مسلم پرسنل لاء بورڈ پر جب بھی کوئی آنچ آئی ہے، آپ سب سے پہلے سينہ تانے کھڑے ہوئے ہیں،مسلمانان ہند کے لیے آپ کی آواز میں بڑی ڈھارس تھی،بابری مسجد کا قضیہ ہو یا تین طلاق جیسے مسئلوں کا مدعا، ہر وقت آپ حکومت سے دودو ہاتھ کرتے رہے ہیں
آئین جوان مردی حق گوئی وبےبا کی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
آج ہم ہندستانیوں کا بڑا نقصان ہوا ہے ،جہاں آپ ہزاروں مدارس ومکاتب کے سرپرست اور روح رواں تھے وہیں سینکڑوں بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے ممبر اورکن رکین تھے، آج سبھی آپ کی شفقت ،عنایت اور محبت سے محروم ہوگئے،آپ کے رحمانی 30کا وہ تعلیمی سفر جہاں سینکڑوں طلباء طالبات مستفیض ہوکر NEET اور JEE جیسے کٹھن امتحانات سے گزر کر اپنی تعلیمی زندگی کو کامیاب بناتے تھے آج وہ بھی سوگوار ہیں
آہ،!!!!
ایک آواز جس سے باطل خیموں میں زلزلہ بپا ہوجاتا تھا،جس آواز کی گونج سے کہرام مچ جایا کرتا تھا،ایک آواز جس پر گاندھی میدان پٹنہ کا پیٹ پہلی مرتبہ شکم سیر دیش بچاؤ تحریک سے ہوا تھا،ایک آواز جہاں سے سبھی کی ستیا ناش کا فلک شگاف نعرہ بلند ہوا تھا،ایک آواز جنہوں نے فاشسٹ اور باطل حکمران کو چیلنج کیاتھا،ایک آواز جو اردوزبان کی پسپائی اور انحطاط پر پورے ریاست میں نکلی تھی،ایک آواز جو مکاتب اسلامیہ کو مضبوط کرنے کی پہیلی تھی ایک آواز جس پر حکومت بھی سنجیدگی سے سوچتی اور مانتی تھی آج ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہوگئی اور ہم ایک عظیم سایہ سے محروم ہوگئے اور ایک چراغ جلانے والے جلاتے جلاتے ہمیں رُلا گئے
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے