آہ جسٹس زبیرالحسن غافل “اجنبی شہر کا عظیم خسارہ” تحریر: مولانا شاہد عادل صاحب قاسمی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ

47

ارریا
72ویں یوم جمہوریہ کا سورج تھک ہار کر غروب ہوچکا تھا،دن بھر کسان اور حکومت کے ٹکراؤ کاخدشہ لیے ہندستانی دھڑکنیں تھوڑی راحت لے رہی تھيں، سبھی مثبت فکر کے متحمل سکون سے ایک بلا کے ٹل جانے پر خوش تھے ،کچھ میں بھی دن بھر کی اس تناؤ سے آزادی لیے ایک دینی پروگرام میں حصہ لینے کمربستہ ہوچکا تھا، شہر سے متصل معرو ف بستی *گیاری *میں حفاظ کرام کی دستاربندی تھی ،روایتی جلسوں سے ہٹ کر پروگرام تھا،لوک ڈاؤن کے زمانے میں12 حفاظ 0کرام کی دستاربندی کرامت ہی کہا جاسکتا ہے،اس مناسبت سے حاضر ہوا ،کیا خبر تھی کہ چند لمحے میں ہی ایک خبر ملےگی، جو بجلی بنکر گریگی،سہ ماہی مجلہ *چشم رحمت* کے مدیر مفتی حسین احمد ہمدم بازو ہی بیٹھے تھے، وہ گوش گزار ہوئے ،ہم اک دوسرے کو تکتے رہے، انہیں اپنی زبان پر لکنت اور همین اپنی سماعت پر شک ہونے لگا،مخبر کی صداقت پر دوبارہ زبان سے پوچھنے کی سکت بھی نہیں ہوئی ،البتہ انہوں نے یقینی کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
دونوں بیک زبان اناللہ واناالیہ راجعون پڑھنے لگے،
گفتگو معمہ نہ بن جائے، بتاتا چلوں کہ ارریہ سرزمین کی ایک قیمتی موتی آج زندگی سے جنگ ہار گئی،ایک اجنبی شہر کا سناشا چہرہ ہمیشہ کیلئے شہر خموشاں کو کوچ کرگئے،ہزاروں فیصلے اپنی عدالت میں سنا نے والے اپنے قضیے کو عالم دوجھان کے خالق کی عدالت میں لیے سدھار گئے،مردہ دلوں میں زندگی پھونکنے والے خود موت کے گلے لگ گئے، آہ آج ،،زبیر الحسن غافل،، کو کیسے مرحوم لکھوں قلم خشک ،زبان گنگ ہورہے ہیں، ابھی کچھ دنوں قبل بات چیت تو ہوئی تھی،
غلام بھارت میں زمینداروں کے گھر یہ پودا ارریہ کی معروف بستی *کملداہا*میں كھلاتھا،علم کمال پر کیا قلم توڑوں، ارریہ کی وکالت پر کیا آپبیتی قلم بند کروں، مونگیر،بیگوسرائے،چائے بانسہ اور بھاگلپور کی عدالت پر کیا خامہ فرسائی کروں،ادبی خدمات پر کس گوشیے کا آپریشن کروں،شاعری کے کس صنف کے گیسووں کو سلجھاؤں،نقد وجرح کی بات کروں یا طنزو مزاح پر گفتگوچھیڑوں،تصنیفی خدمات کا ذکرکروں یا دیگر موضوعات پر سیر کروں، اس پلیٹ فورم پر تو سبھی کچھ کہنا طوالت سے خالی نہیں، چلیے زندگی کے کسی لمحے میں ضرور موضوع وار حاضری ہوگی، فی الحال اپنی زندگی کا ایک واقعہ قارئین کی نظر کرنا ضروری سمجھتا ہوں،جس کا مرحوم سے خاصی مناسبت ہے،

ستمبر 2015سے قبل میری واقفیت مرحوم سے دور دوری والی تھی،بالمشافہ کبھی ملاقات اس سے قبل تھی نہ کبھی کوئی علیک سلیک تھا، مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ میں فاضل عہدہ پر بحالی کیلئے اہلیتی انٹرویو ہو رہا تھا،بطور اکسپرٹ مدرسہ بدرا لاسلام بیگوسرائےسے قاضی شبّیر انور قاسمی مدعو تھے تو بطور مہمان ممتحن مدرسہ ضیاء العلوم بوجگاؤں پورنیہ کے ایک ممتحن تھے، مگر سه رکنی سلیکشن کمیٹی میں جن تین حضرات کے نام تھا اس میں ایک نام مرحوم کا بھی تھا،انکی فرائض کی انجام دہی پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے،تمام اراکین مدرسہ ،تمام منتخب سہ رکنی کے ذمے داروں اساتذہ کرام،اکسپرٹ حضرات اور امیدواروں سے جو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ عمل اختیار کرنے کا ایک طرح سے حلفیہ گفتگو کیا تھا شاید آج کے دور میں کوئی خاص ولی ہی کرسکتا ہے،امیدواروں میں ان کے خاص سگیے صلبي اور قریبی رشتےدار شریک انٹرویو تھے ،شہر کے معززین اور معتبر لوگوں کے چہیتے تھے ،اثرورسوخ والے گھرانے کے بچے تھے مگر واہ رہے عادل با کمال کسی کی پیروی کا پرواہ نہ کسی سے کوئی مرعوبیت والی بات،صاف ستھرئی بات پاکیزہ خُیالات کے متحمل انسان کا فیصلہ سن اور دیکھ کر سبھی خوش،فیصلے کی طمانیت پر ہر چہرہ شادماں،رات کے 11بجے فائنل نتیجہ آویزاں اور اسی وقت فائنل رپورٹ کارڈ کا صدور اس کو اگر ولی کا عمل نہیں کہا جائے تو کیا کہا جائے،صبح سے رات کے نصف پہرتک کسی منتظم یا متعلقہ کو احاطہ سے باہرہونے کی اجازت نہ ہو اور خود ہمرکاب رہیں اسے انصاف کا دیوتا نہیں کہا جائے تو کیا کہا جائے،منتخب امیدوار کو اعلان کے ذریعہ اسی وقت بلاکر مفوضہ فرائض کی انجام دہی کیلئے اصولی اور ضروری باتیں بتائیں جائے مقام اور منصب کا پاتھ پڑھایا جائے، اسے دیانت داری کا مرکز نہیں کہا جائے تو کیا اورکہا جائے، مزے کی بات بتاؤں ،آپ دانتوں تلے انگلیاں لے لیں گے ،انتخاب کے 5دن بعد دل میں داعیہ ہوا کہ ان سے ملنا چاہیے،ان رسموں سے پرِیے میں ایک ادب کے طالب علم ہونے کے ناطے ادب کے استاد سے کسب فیض کی خاطر حاضر خدمت ہوا ،میرے ہمراہ میرے قریبی دوست مولانا عامر قاسمی تھے ،جو انکے خانوادہ سے ہیں ،حد تو یہ ہے کہ میرے ہمراہی خود اس انٹرویو میں شریک تھے،مگر خوشی بخوشی انھوں نے میری رہبری کی ،حسن ولا کا بورڈ عالیشان عمارت پر منہ کھولے صاحب مکین کا پتہ بتا رہا تھا،بیل پر عامر بابو اپنی پتلی اور خوبصورت انگلی کی طاقت آزمائی کی با لفور گیٹ کھلا ہم دونوں حاضر ہوئے ،بیڈ پر ایک سائیڈ پڑے کتب بینی میں مصروف دیکھ کر ہم اپنی بے راہ روی پر نادم ہونے لگے،اس عمر میں یہ شوق،ایسا معمول اور ہم سر پھرے موبائل سے کتنے قریب، خیر علیک سلیک ہوا،عامر بھائی سے میرا تعارف پوچھے،فورا گلے ملے اور طنزومزاح کے شاعر تو تھے ہی فورا گولہ داغ دیے ،مجھے ہنسی آئی مگر بڑوں کی نگاھیں ہی کمال کی ہوتی ہیں بولے میں نے کئی مضامین آپکے مخلتف جرائد اور رسالوں میں دیکھے ہیں ،اکیسویں صدی کے شروع میں میرے مضامین روزنامھ راشٹریہ سہارا اردو نوئیڈا اور ہفت روزہ نئی دنیا میں کثرت سے شائع ہوتے تھے اس پر شاید کبھی انکی نگاہِ پڑئی تھی ،ایک لمبی بات ہوئی،مولوی کی *ی *پر خوب ہنسے،جنس کی تبدیلی پر خوب مسکرائے مسکان بھی آپکی کتنی خوبصورت تھی ہزاروں مسکاں قربان ہوجائیں ،واپسی پر اپنی تصنیف کردہ انمول کتابوں کا ہدیہ عنایت کیے،ڈھیرساری دعائیں دیے اور دوبارہ آنے کی دعوت بھی ملی ،انیکوں بار ملاقاتیں ہوئیویں ،ہر بار وہی مسکان ،وہیں خوش خلقی،وہیں انسیت اور وہی پیار ملتا رہا،امیر شریعت کا انتخاب ہونا تھا ،مفکر ملت حضرت مولانا ولی رحمانی حفظہ اللہ نے ارریہ کی سرزمین کا انتخاب کیا تھا،پروگرام زیرومایل تھا لیکن مہمانوں کا قیام یتیم خانہ میں بھی تھا،ہم لوگوں پر ڈبل ذمےداری تھی ،شہر کے معززین کی فہرست سونپنی تھی،ہمارے محسن و ہمدرد مفتی انعام الباری قاسمی دامت برکاتہم عالیہ کے کاندھوں پر اس پروگرام کی بڑی ذمےداری تھی انکے ساتھ پھر مرحوم کی دید کی تمنّا لیے چل پڑے،وہی روایت،وہی مروت شامل حال رہی،ادبی مار کھائے بنادرد ایک اور ضرب کی اشتیاق لیے بیٹھے رہے،مونگیر کی بات تھی،مونگیری کے سر تاج بندھنا تھا اور مرحوم مونگیر کی عدالت پر اپنا جلوہ بکھير چکے تھے اس لیے وہاں سے متعلق کافی معلومات ساجھا کیے ،ادبی گولہ داگے اور ہم مستفید اور محظوظ ہوتے اس کوچے سے ایک بار پھر نکلے ،آمد و رفت کایہ سلسلہ خوب رہا مگر کسے معلوم تھا کہ یہ شہر اس قدر ویران ہوجائےگا،ہر چہرہ مایوس،ہر آنکھیں اشکبار ہر دل شکوہ کنان کہ آخر اتنی جلدی کیا تھی،مگر قضائے خداوندی کے سامنے کسکی چلی ہے،ملک الموت سے کون اُلجھ کر بھاگا ہے یہ ایک کڑوا سچ ہے جیسے ہر حال میں نوش کرنا پڑتا ہے،شیشے کے محل ہوں یا سڑک پر تمبو،خانہ بدوش کا ٹینٹ ہو یا بنجاروں کی گاڑیاں آن سے جنگ تو ہارنی پڑتی ہے ،ٹھیک آج یہ اجنبی شہر کا سنا شا مسافر اپنی حیات ہار گیا
ع آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے –
ادبی دنیا پر آپکے خدمات بے شمار ہیں ،اس پر قلم یا زبان خاموش رہے ناممکن ہے ،ہر زاویے پر گفتگو ہوگی،ادب کے ہر صنف پر آپکا قلم بولا ہے تو ہمارابھی فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کا احاطہ کریں،اس مردم خور مٹی میں ہماری ہزاروں تاریخیں اور کارنامے دفن ہوچکے ہیں، اب ہم عہد کرلیں کہ ہم اپنی اس قیمتی اثاثہ کو ضائع ہونے نہیں دینگے،اس خدمات کی جانکاری سے ہم آنے والی نسلوں کو محروم ہونے نہیں دینگے،