آہ بذلہ سنجی گئی محفل چھوڑ کر شاہد عادل قاسمی ارریہ

58

آہ
بذلہ سنجی گئی محفل چھوڑ کر
شاہد عادل قاسمی ارریہ
نحیف جسم،معتدل قدوقامت،بھولی بھالی صورت، معمولی لباس،رومال سے ڈھکا چہرہ،رفتار کے شہنشاہ،کردار کے غازی،گفتار کے شاہ،تعبیرات کے منبع،تشبیہات کے مخزن،استعارات کے مرکز،عربی ادب کے شہسوار ،اُردو ادب کے پلک کو سنوارنے والے در بیش بہا، عربی قصیدوں کے لائبریری ،الفاظ و معانی کے سمندر،تراکیب و اصطلاحات کے بحر بیکراں ،انتظامی امور کو متانت سے حل کرنے والے عظیم مربی،درس گاہوں میں افہام وتفہیم سے طالبان علوم نبویہ کو گرویدہ کرنے والی عظیم المرتبت شخصیت،مزاج کے نرم ،حرارت میں بھی برودت ،نہایت ہی شریف الطبع ،پاکیزہ خیالات کے متحمل ،دیانت وتحمل کے کوہ ہمالہ،دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث وادب،اہتمام نیابت پربرسوں سے فائز خلیق،ملنسار،زہدوتقویٰ سے سرشار،اخلاص و للہیت کے عظیم پیکر الحا ج حضرت مولانا عبد الخالق سنبھلی صاحب بھی آج ہمیں داغ مفارقت دے گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون
مدرسہ ثانویہ کے احاطے میں دارالمدرسین میں مرحوم کی رہائش گاہ تھی،مسجد رشید سے اعظمی منزل ہوتے ہوئے ہم طلباء سہارن پور روڈ کراس کرکے کھیت کھلیانوں کی طرف عصر بعد تفریح کے لیے نکلاکرتے تھے،موصوف کے ہمراہ مولانا نسیم صاحب بارہ بنکوی اور حضرت مولانا محمد خضر کشمیری صاحب اساتذہ دارلعلوم دیوبند،بھی اپنی رہائش گاہ کے سامنے کھٹیا بچھا کر تشریف فرما ہوتے تھے، چہرے پر مسکان،مزاج میں تفریح،زبان میں شیرینی،سلام میں پہل،کلام میں مودت،دریافت خیریت کی اپنائیت اللہ کی پناہ وہ کیفیت اپنے سگے سے سگوں میں بھی کہاں؟
خراماں خراماں رفتار سے مکمل سادگی میں علم و فن کا درخشندہ ستارہ، ہاتھوں میں خود کتاب لیے چلے آرہے ہیں،درسگاہ میں کسی کی کیا مجال جو اُن کو کوئی سلام میں سبقت کرلے،میٹھی میٹھی اوربھینی بھینی بول سے مجلس اورہم نشیں پر چھا جاتے، شیریں زبانی سے ہم سب اسیر ہوجاتے،”کمرہ” اصل میں “کم رہ”تھا “ناشتہ”اصل میں” نان داشتہ”تھا ، وجہ تسمیہ آج بھی ذِہن میں موجود ہے،
“مولانا مودودی “کا انتقال امریکہ میں ہوا، اس پر مرحوم کا برجستہ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا”آج بھی یادوں کی حسین گلیوں میں محفوظ ہے
“دیوان متنبی “کادرس آپ کا بہت مقبول تھا،تکمیل ادب میں بھی کئ کتابیں آپ سے منسلک تھیں،اس وقت اہتمام کی زمہ داری تھی نہ ہی دورہ حدیث میں کوئی گھنٹی ،الفاظ ومعانی کی تحقیقات کی گیرائی سے شوقین طلباء خوب مستفید ہوتے تھے،گردان و تعلیلات کی روانی تلاطم خیز دریا سے کم نہیں،ذہانت و فطانت ایسی کہ ورقہا ورق پلٹتے جائیے اور حافظ کی طرح دور سنتے سناتے جائیے،ہر لفظ کی تحقیق،ہر معانی کی تشریح،ہر محاورات پر دسترس انکی فطرت ثانیہ تھی،
4/جنوری 1950میں جو شمع” سنبھل”ضلع مرادآباد میں جلا تھا آج وہ 30/جولائی 2021کو دن کے تقریبا چار بجے لمبی علالت کے بعد بجھ گیا”مرادآباد”ہاپوڑ”اور دیوبند سے جوفیضان جاری ہوا تھا، آج وہ گل ہوگیا،لاکھوں آنکھیں آج اشکبار ہوئیں،لاکھوں قلب آج سونا سونا ہوئے،لاکھوں دماغ آج مضمحل ہوئے،دارالعلوم کی چہار دیواری ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک کا ایک خاص طبقہ آج مغموم ہے اور دل سے یہ آواز جاری ہے
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے