ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماسلامیاتآپ ﷺ کے کریمانہ اخلاق

آپ ﷺ کے کریمانہ اخلاق

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا، فَأَرْسَلَنِي یَوْمًا لِحَاجَۃٍ، فَقُلْتُ: وَاﷲِ، لَا أَذْہَبُ، وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْہَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِہٖ نَبِيُّ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، فَخَرَجْتُ حَتّٰی أَمُرَّ عَلٰی صِبْیَانٍ وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ فِي السُّوْقِ، فَإِذَا رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقَالَ: یَا أُنَیْسُ، أَذَہَبْتَ حَیْثُ أَمَرْتُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَذْہَبُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ أَنَسٌ: وَاﷲِ، لَقَدْ خَدَمْتُہٗ تِسْعَ سِنِیْنَ، مَا عَلِمْتُہٗ قَالَ لِشَيئٍ صَنَعْتُہٗ: لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا؟ أَوْ لِشَيئٍ تَرَکْتُہٗ: ہَـلَّا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

6: أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب کان رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم أحسن الناس خلقًا، 4/1805، الرقم: 2310، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب في الحلم وأخلاق النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 4/246، الرقم: 4773۔

”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺکے اَخلاق سب سے اچھے تھے، آپ ﷺ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا، میں نے کہا: خدا کی قسم! میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ آپ ﷺنے مجھے جس کام کا حکم دیا ہے میں وہ کام کرنے ضرور جاؤں گا، میں چلا، حتیٰ کہ میں چند لڑکوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے، پیچھے سے رسول اللہ ﷺ نے اچانک میری گدی سے پکڑا، میں نے آپ ﷺکی طرف دیکھا تو آپ ﷺمسکرا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اُنَیس! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے کہا تھا، میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہﷺ! میں جا رہا ہوں، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خدا کی قسم! میں نو سال آپ ﷺکی خدمت میں رہا، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے میرے کسی کام کے متعلق فرمایا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ یا کوئی کام میں نے نہ کیا ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا ہو کہ تم نے اسے کیوں نہیں کیا۔”

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے