جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتآلات علم کاادب کیجئے!

آلات علم کاادب کیجئے!

آلاتِ علم کا ادب کیجیے

انظار احمد صادق ؔ

الحرا پبلک اسکول، شریف کالونی، پٹنہ

رابطہ:7091816277

 ’اَدب‘ایک انتہائی خوبصورت لفظ ہے۔ عزت و احترام، لحاظ و خیال، قدر ومنزلت، حفاظت و صیانت اور دیکھ ریکھ کی مجموعی معنویت کا ایک جامع لفظ ادب ہے، یہ جس کے اندر سرایت کرجائے اسے بھی خوبصورتی اور دلکشی عطا کردیتاہے۔ ادب اخلاقیات کا حصہ ہے اور دینِ اسلام کا اہم جزبھی۔ اسلام نے اد ب و احترام کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں ملحوظ رکھا ہے۔ در اصل ادب ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ایک طالب علم کے لیے تو ادب اس کا امتیازی وصف ہے اور زینتِ حیات بھی۔ایک طالب علم چا ہے کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو اگر اس میں ادب نہیں تو گویا اُس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ادب ایک دوسرے کے تئیں ہماری قلبی کیفیات اور باطنی محبت کو درشا تا ہے۔

 ایک اچھا طالب علم حصولِ علم کے دوران استاذ سے محبت کرتا ہے، ان کی قدر کرتا ہے اور ان کی فرماں برداری کرتا ہے۔ایسا طالب علم مثالی طالب علم کہلاتا ہے۔ حصولِ علم کے دوران ایک اور ادب کا لحاظ وپاس انتہائی ضروری ہے جس سے ان دنوں یکسر نظریں چرائی جارہی ہیں، جب کہ ان چیزوں کی بھی تعظیم اور ادب ہمارے لیے واجبات میں سے ہے۔ میری مراد اُن چیزوں سے ہے جن کے ذریعہ آپ علم حاصل کرتے ہیں۔آپ جس اسکول،مدرسہ، معہد، کالج اور جامعہ میں پڑھتے ہیں اس کی عمارت، درو دیوار، دروازے، کھڑکیاں، بلب اور پنکھے وغیرہ ان سب کی حفاظت آپ پر لازم ہے۔ کیوں کہ یہ ساری چیزیں آپ کی تعلیمی معاون ہیں۔ علم حاصل کرتے ہوئے یہ ساری چیزیں خاموش انداز میں آپ کی مدد کرتی ہیں، پھر ایسی صورت میں کسی طرح یہ بات زیب نہیں دیتی کہ آپ اپنے معاونین اور محسنین کو نقصان یا تکلیف پہنچائیں۔ اسی طرح آلاتِ علم یعنی قلم، کتاب، کاغذ، تختی،تپائی،کرسی اور ٹیبل وغیرہ کا ادب نہ یہ کہ ضروری ہے بلکہ آپ پر لازم ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”تَوَاضَعُوْا لِمَنْ تُعَلِّمُوْنَ مِنْہُ“ یعنی جس سے علم سیکھو اس کے ساتھ ادب اور تواضع سے پیش آؤ۔

 علم حاصل توکیا جارہا ہے مگر برکت سے خالی علم۔ برکت کے ساتھ علم کا جو تصور تھا وہ ختم ہوتا جارہا ہے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالب علم کے اندرسے ادب اور تواضع ختم ہوتا جارہا ہے۔ ادب اور تواضع پر توجہ نہیں دی گئی اور اس کے بغیر ہی علم حاصل کیا جاتا رہا توعلم حاصل تو ہوجائے گا، مگر اس کے ساتھ شیطنیت اور دہریت شامل ہوجائے گی۔

 آپ غور کیجیے۔ وہ تپائی جس پر آپ اپنی مقدس کتاب رکھتے ہیں، یہ آپ کے لیے کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ آپ اس پر بیٹھیں یا پیر رکھیں، وہ قلم جس سے آپ لکھنا سیکھتے ہیں یہ آ پ کے لیے مناسب نہیں کہ اسے پھینک کر کھیل کھیلیں اور اس طرح اس کی بے حرمتی کریں، وہ کاغذ یا تختی جس پر آپ لکھنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں، آپ پر واجب ہے کہ اس کی حفاظت کریں۔ وہ عمارت جس کے تَلے آپ بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہوتے ہیں، بدتمیزی کی انتہا ہے کہ اس کی کھڑکی، دروازہ، پنکھا یا بلب کو نقصان پہنچائیں۔ آج یہ بات اپنے ذہن میں بیٹھا لیجیے کہ علم سیکھنے سے متعلق اساتذہئ کرام سمیت جتنی چیزیں آپ سے جُڑی ہوئی ہیں ان سب کا ادب و احترام اور حفاظت آپ پر لازم ہے، تب جاکر آپ ایک باادب طالب علم کہلانے کے مستحق ہوں گے اور آپ کے علم میں برکت بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس کی توفیق دے، آمین یارب العالمین!

٭٭٭

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے