آفس کا کام گھر سے!!!!

44

آفس کا کام گھر سے!!!!

صبح سویرے گھر سے باہر نکلتے ہی مجھے مشرا صاحب کا فون آیا کہ آج آفس بند رہے گا۔ ہمارے ایک ساتھی کی رپورٹ کورونا مثبت آئی ہے۔ اب آفس کا کام گھر سے ہی کرنا ہوگا۔ ویسے ہی گھر لوٹا تو بیوی اور بچے مجھے حیرت سے دیکھنے لگے۔ کرسی پر بیٹھتے ہوئے انہیں تفصیل سنائی اور ایک لمبی سانس لی۔ آفس بیگ کھولنے ہی والا تھا کہ پڑوس کے گھر سے لڑائی جھگڑے کی آواز سنائی دی۔ خان صاحب کی دکان بھی کئی دنوں سے بند ہے۔ آج کل وہ گھر پر ہی ہوتے ہیں۔ میں یہ سوچنے لگا کہ کاش وہ کچھ پڑھے لکھے ہوتے تو گھر میں اس طرح بچوں پر غصہ نہیں کرتے اور نا ہی بیوی سے بات بات پر لڑائی کرتے۔ میں دل ہی دل میں اپنی شیخی بگارنے لگا۔خود کو بہتر سمجھنے لگا۔ میری بیوی شائنہ مجھ سے کہنے لگی روز کا ہے ایک دن کا ہوتو ہم جاکر ان کے بیچ کچھ کہہ بھی لیں۔۔۔۔خان صاحب کو تو بغیر جھگڑے کے کھانا ہضم نہیں ہوتا۔
میں نے میز پر اپنا بیگ رکھا اور لیپ ٹاپ نکال کر۔۔آفس کا کام کرنا شروع کردیا۔۔۔کچھ ہی وقت گزار تھا کہ۔۔شائنہ نے مجھے ڈرائنگ روم میں بلایا۔ ہمارے بیٹے کی شکایتیں شروع کردی ۔آن لائن لیکچر کے نام پر نواز ویڈیو گیم کھیلتا رہتا ہے۔ پڑھائی نہیں کرتا۔ اور نہ دعائیں یاد کرتا ہے۔ اور چھوٹی بہن سائرہ کو بھی دن بھر پریشان کرتا رہتا ہے۔۔آپ ہی اسے سمجھائے۔۔۔اسے مدرسے میں داخل کرادیجئے۔۔مولوی صاحب کے ڈنڈے کھاکر سمجھ آئے گی۔ میں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا اور میز کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔اور سوچنے لگ گیا کہ کہیں پیسے کمانے کے چکر میں بچوں کی تربیت میں کوتاہی تو نہیں کررہا ہوں؟ اولاد نعمت ہے اور آزمائش بھی ان کی صحیح تربیت والدین کا اولین فریضہ ہے۔ خیر۔۔ جیسے ہی کام کرنے کےلئے خود کو تیار کیا کہ سبزی والے نے دروازے پر دستک دی۔ شائنہ نے رسوئی گھر سے ہی کہا, میں کھانا بنارہی ہوں, “سبزی آپ لے لو”۔ فائل رکھ دی اور سبزی کی ٹوکری میں سے سبزی دیکھنے لگا۔ سبزی والا مجھے حیرت سے دیکھنے لگا۔ جیسے وہ مجھے اس گھر میں پہلی بار دیکھ رہا ہو۔
“کون سے گاؤں سے بی بی جی کے گھر مہمان آئے ہیں؟”۔۔سبزی والا بولا۔۔
میں نے کہا یہ میرا ہی گھر ہے۔۔۔عجیب لوگ ہوتے ہیں۔۔میں من ہی من سوچنے لگا۔۔مجھے اپنے ہی گھر میں مہمان بنا دیا۔۔لیکن اس کی غلطی نہیں۔۔مجھے اس نے یہاں دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔دوپہر کے کھانے کے وقت پھر سے نواز کی شکایت شروع ہوگئی۔
شائنہ تم صرف , نواز کی شکایت کرتی رہتی ہو۔ کبھی اسے پیار سے سمجھایا کرو۔بچہ ہے۔آہستہ آہستہ بات سمجھ جائے گا۔۔میں نے دبی ہوئی آواز میں شائنہ سے کہا۔۔۔کچھ دیر بعد رسوئی گھر سے برتن گرنے کی آواز آنے لگی۔۔ شاید یہ جنگ کا بگل بج رہا تھا۔۔خیر۔۔مینجر کا فون آیا کہ تم نے ابھی تک فائیل ویب سائٹ پر اپلوڈ نہیں کی۔ “جی۔جی۔ابھی کررہا ہوں”۔ ٹیکنکل بہانہ بناکر فون رکھ دیا۔شائنہ پھر سے نواز کی شکایت لے کر آگئی۔۔آفس کا ٹینش اور اس پر یہ نواز کی شکایتیں۔۔میں اٹھا اور اس کی پٹائی شروع کردی۔۔غصے میں شائنہ سے بھی الجھ پڑا۔ آواز گھر کے باہر جارہی تھی۔مگر خود پر قابو نہ کرسکا۔ غصہ پر قابو کرنا حقیقت میں کسی مجاہد سے کم نہیں ۔ میں گھر سے باہر جاکر کھڑا ہوگیا۔ پڑوسیوں کی نظریں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔ خان صاحب اپنی بیوی کے ساتھ شام کی چائے پی رہے تھے۔ انہوں نے مجھے نظر انداز کیا۔ جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنے اس جملے کو یاد کرتا رہا کہ جو صبح میں نے ان کے لئے کہے تھے۔ کیا حالات ہم سے ہمارا شعور چھین لیتے ہیں؟ کیا ہمارا ذہن ہمارے آس پاس کے ماحول سے اثر انداز ہوتا ہے؟ میں آفس کا پرسکون ماحول۔۔کینٹن۔۔ساتھیوں سے گپ شب یاد کرنے لگا۔یہ سوچتا ہوا میں پھر سے گھر میں داخل ہوگیا۔

منور حسین۔ احمدنگر۔مہاراشٹر
9272444720