بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومزبان وادبآزادی کے بعد : بہار کے اردو ادبی رسائل

آزادی کے بعد : بہار کے اردو ادبی رسائل

آزادی کے بعد : بہار کے اردو ادبی رسائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبصر : فخرالدین عارفی
محمد پور ، شاہ گنج ۔ پٹنہ 800006

بہار کی سرزمین علم و ادب اور شعر و سخن کی لیےء ہمیشہ زر خیز رہی ہے ۔ یہاں افکار کی کاشتکاری ہوتی ہے اور فلسفے کے پھول کھلتے رہے ہیں ۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ (عظیم آباد ) کو ہم اگر اہل جنوں کا شہر کہیں تو شائد غلط نہ ہوگا ، جنوں کے بطن سے ہی خرد کا جنم ہوتا ہے ۔ عظیم آباد میں جب رات ہوتی ہے تو ادب کے جگنو اس کو منوّر کردیتے ہیں اور جب آسمان کا سورج غروب ہوجاتا ہے تو آدھی رات کو یہاں ادب کا سورج طلوع ہوتا ہے اور پھر شعور و احساس کا ایک کارواں آگے بڑھتا ہے ۔ اس کارواں میں ہر شخص کی حیثیت “میر کارواں ” کی ہوتی ہے ۔ ہر ذرہ مثل آفتاب و ماہتاب ہوتا ہے ۔ گویا ایک کہکشاں ہوتی ہے جو ہمیں سمتوں کا پتہ دیتی ہے ، ہمارا سفر جاری رہتا ہے اور ہمارے قدم کبھی پا بہ زنجیر نہیں ہوتے ہیں ۔
عطا عابدی بنیادی اور فطری طور ایک شاعر ہیں ۔ وہ پندرہ کتابوں کے مصنف ہیں ، جن میں زیادہ تر کتابیں شعر و سخن سے تعلق رکھتی ہیں ، لیکن ان کی چند کتابیں ایسی بھی ہیں جن کا رشتہ تنقید و تحقیق سے جڑا ہوا اور وابستہ نظر آتا ہے ۔ ان کی ایسی ہی ایک کتاب “آزادی کے بعد بہار کے اردو ادبی رسائل ” ہے ، جو “اردو ڈائریکٹوریٹ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ حکومت بہار ” کے مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے ۔ کتاب کا موضوع بہت خشک اور دقّت طلب ہے ۔ لیکن عطا عابدی نے اس مشکل کام کو آسان کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ آدمی اگر ٹھان لے تو پھر وہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ آزادی کے بعد بہار کے ادبی رسائل پر کام کرنا ، بہت مشکل کام تھا ، اس لیےء کہ آزادی کے بعد ریاست میں ان گنت رسائل مختلف شہروں سے نکلے اور بند ہوئے ، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ سب کی ایک مکمل اور جامع فہرست بنانا اور ان رسائل کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرانا کوئی آسان کام یقیناً نہیں تھا ، اس کام کو انجام دینے میں عطا عابدی صاحب کو کتنی محنت کرنی پڑی ہوگی یہ وہی جانتے ہوں گے آزادی کے بعد : بہار کے اردو ادبی رسائل۔
اس وقت میرے پیش نظر ان کا یہ تحقیقی کارنامہ زیر مطالعہ ہے ۔ جو 320 صفحات پر محیط ہے اور اس میں 222 ایسے رسالوں کی مکمل فہرست اور ان رسائل کے سلسلے میں ضروری تفصیلات کو مصنف نے یکجا کیا ہے جن کا تعلق بہار سے ہے اور جن کی اشاعت آزادی کے بعد عمل میں آئ تھی ۔ کتاب میں مناظر عاشق ہرگانوی ، ڈاکٹر سیّد احمد قادری ، ڈاکٹر محسن رضا رضوی کے علاوہ خود کتاب کے مصنف عطا عابدی کی تحریریں شامل ہیں ، جن کے مطالعے سے ہمارا مکمل تعارف کتاب کے مواد سے ہوجاتا ہے اور کتاب کا مطالعہ کرنے کا جواز بھی یہ تحریریں ہمیں فراہم کردیتی ہیں ۔ اس کتاب کو ایجوکشنل پبلشنگ ہاوٴس نیء دہلی نے شائع کیا ہے ۔ کمپوزنگ اچھی ہے ، کاغذ بھی عمدہ استعمال کیا گیا ہے ۔ قیمت پانچ سو روپے ہے اور سال اشاعت 2022 ہے ۔ کتاب پٹنہ میں بک امپوریم ، سبزی باغ پٹنہ 800004 سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے