آخر یہ سال بھی قوم کی حالت زار پر رونے میں چلا گیا ملی تنظیمیں اقدامات کب اٹھائیں گی

72

ذوالقرنین احمد (روزنامہ نوائے ملت) وقت جس رفتار سے گزر رہا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے‌۔ وقت گا پہیہ بڑا ظالم ہے جو کسی کیلئے نہیں رکتا ہے چاہے وہ امیر ہو غریب ہو، وزیر ہو، فقیر ہو، تعلیم یافتہ، جاھل ہو، ہو بچہ ہو نوجوان ہو، بوڑھا ہو وقت پر کسی کا زور نہیں چلتا ہے۔ وقت نے کیسے کیسے سورماؤں کو ایک لمحے میں اپنی حیثیت دیکھائی ہے۔ دنیا کی سب سے قیمتی شئے اگر ایمان کے بعد کوئی ہے تو وہ وقت ہے۔ انسان دنیاوی اشیاء کو دولت سے خرید سکتا ہے عہدے بیچ سکتا خرید سکتا ہے۔ لوگوں کو پیسوں کے بل پر غلام بنا سکتا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسی چیز ہے جسے انسان کیا پوری دنیا مل کر وقت کے ایک گزرے ہوئے لمحے کو واپس لوٹا نہیں سکتی ہیں۔ دنیا تیزی سے اپنی منزل کی طرف یعنی آخری انجام قیامت کی طرف رخت سفر ہے۔ لیکن انسان ہے کہ خواب غفلت میں دنیاوی عارضی عیش و آرام کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

آج مسلمانوں کے موجودہ حالات گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں حد درجہ تنزلی اور غیر مستحکم ھے۔ گزشتہ سالوں میں مسلمان ملک میں کچھ حد تک اپنا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ایسے افراد قوم و معاشرے میں موجود تھے جو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور‌نفرت کا جواب دینے کی طاقت رکھتے تھے۔ اور ہر ظلم کے خلاف زمینی سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ لیکن آج مسلمانوں کے حالات یہ ہے کہ وہ کسی پوزیشن میں نہیں ہے وقتی طور پر ہمارے نوجوان ہماری ملی قیادت سیاسی رہنما، اور خود ساختہ لیڈران مسلمانوں کے دفاع کی طاقت سے محروم دیکھائی دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حادثات اور پری پلاننگ طریقے سے مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کرنے والوں کے خلاف رونا رونے اور مزمتی بیانات پریس کانفرنس کرنے کے علاوہ کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے اور ناہی اسکی ضرورت کو محسوس کیا جارہا ہے۔

آزادی کے بعد سے جتنی مرتبہ بھی مسلمانوں پر حالات و پریشانیاں آتی رہی ہے۔ مسلمانوں کا قتل کیا گیا یا انکے دوکانوں مکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، عبادت گاہوں کو منہدم کیا گیا، مدارس کے طلبہ اور اساتذہ پر حملے کیے گئے۔ کھلے عام نوجوانوں کا قتل کیا گیا، معصوم بنت حوا کی عصمتیں تار تار کی گئی۔ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر حملے کیےگئے ۔ پڑھنے والے طلبہ و طالبات پر لاٹھی چارج کی گئیں گولیاں چلائیں گئی، ان سب سنگین حالات کے بعد بھی مسلمانوں نے ہوش کے ناخن لینے کے بجائے صرف مزمتی بیانات جاری کر کے یہ سمجھا کہ انھوں نے قوم کے مجرموں کو مسلمانوں کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔ جبکہ وہی ظالم و جابر افراد جنہوں نے نفرت کے بیج بوئے تھے آج وہ افراد اس نفرت کے بیج کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ اور اسکے پھل بھی استعمال کر رہے ہیں۔ جو ہماری نظروں کے سامنے آج موجود ہے جن کے ہاتھوں میں ملک کا اقتدار ہے جو پورے سسٹم پر قبضہ کیے ہوئے ہیں اور مسلمان اب بھی مزمتی بیانات سے کام لے رہے ہیں۔

جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان ماضی کے واقعات اور کاری ضربوں سے کچھ سبق حاصل کرتے ملی قیادت اپنے لائحہ عمل کو تبدیل کرتی ناکہ صرف خدمت خلق کے نام پر عوامی چاندوں سے ضرورت مندوں کی وقتی ضروریات کو پورا کرتی رہتی بلکہ عدل و انصاف انسانیت کی بقا کیلئے کچھ ایسے اقدامات اٹھاتے جس کے زریعے سے ظلم و تشدد نا انصافی کا خاتمہ ہمیشہ کیلئے کیا جاتا اور عوام کو مخلوق کی غلامی سے ہمیشہ کیلئے آزادی کا پروانہ مل جاتا اور عوام کے دلوں سے اللہ کے خوف کے سوا تمام انسانوں کے خوف کو نکالنے کا کام کرتی ۔ کیونکہ ظلم و جبر اور حکومت کرنے کیلئے عوام کے اندر موجودہ حکومت اور صاحبِ حکومت کا ڈر و خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تصور صرف غیر منصفانہ اقتدار حکومت کا تصور ہے۔ جو ظالم بن کر عوام کو غلام بنا کر حکومت کرنا جانتے ہیں۔ انسانیت کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی یہ ہے کہ اسے انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی غلامی میں داخل کردیا جائے کیونکہ جب کوئی قوم غلامی کے طوق کو گلے میں ڈال لیتی ہے پھر اسکے پاس موجودہ حکومت کے بادشاہ کا حکم ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن ایمان والے اللہ تعالیٰ کے حکم کو مقدم رکھتے ہیں۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ قوم کے بچوں اور ماؤں کی تعلیم و تربیت اس معیار پر ہو جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔ تب جاکر وہ قوم میدان میں سر سے کفن باندھ کر اترتی ہے ۔ آج ان جیسے افراد کا ملنا مشکل ھے کیونکہ تربیت کا نظام ہمارے معاشرے اور خاندانوں سے ختم ہوچکا ہے سوائے مادود چند کے ۔

 

مستقبل میں اگر قوم و ملت کو باوقار زندگی گزارتے دیکھنا ہے تو اسکی تیاری ضروری ہے۔ ورنہ حالات اس قدر سنگین ہے کہ ہم اس وقت کو یاد کیجیے جس وقت ایمرجنسی کی طرح کورونا وائرس کے نام پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے جبرا لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔ اور اس میں ہر ایک کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہوگیا کہ نہ اس وقت کسی لیڈر کی لیڈری کام آسکی اور نا کسی مالدار کا مال کام آسکا نا کسی کا سیکولرزم کام آیا بلکہ سبھی کو مجبوراً حکومت کے فیصلے کو قبول کرنا پڑا، جس میں ہر انسان اپنے آپ کو نہتا بے یار و مددگار محسوس کر رہا تھا ۔ حکومت کے بغیر اجازت کے اسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس قدر خوف طاری تھا کہ جس جگہ پر لوگ شان سے کھڑے رہتے تھے اور اپنی لیڈری دیکھاتے تھے اپنے مال و دولت کی شان و شوکت دیکھایا کرتے تھے وہ لوگ اپنے اس علاقے میں کھڑے رہنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے تھے۔

ذرا غور کیجئے سوچیں اگر پھر سے ہمارے اوپر سنگھی فرقہ پرست حکومت ایسی ایمرجنسی نافذ کرتی ہےتو ہمارے پاس ان حالات سے نمٹنے کیلئے کیا پلاننگ ہے۔ حکومت اگر جبراً ظالمانہ طور پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہےاور تمہیں غلامی کی دہلیز پر لانا چاہتی ہے تو ہمارے پاس اسکے لیے کیا اقدامات ہے۔ یہ ہم اب بھی سوچنے کیلے تیار نہیں ہے یہ خاموشی کسی ایسے شور کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہے جس میں مظلوم عوام کو غلام بنایا جائے گا یا دوسرے درجے کا شہری بنایا جائیگا۔ کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کے دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جب چاہے حالات کو تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن جو قوم اپنے حالات کے بدلنے پر غور نہیں کرتی ہے جسے مستقبل کی فکر نہ ہو اللہ تعالیٰ انکے حالات کو تبدیل نہیں کرتا ہے۔ ایک طرح سے یہ سب کچھ جو عالمی پیمانے پر ہورہاہے یہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کا ایک حصہ ہے تقدیر میں جو ہے وہ ہوکر رہے گا۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے جتنی قدرت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اسکے مطابق اپنے حصے کی محنت کرنی ہے۔ آج مسلمانوں کو ان سنگین حالات سے نکالنے اور مستقبل کی پریشانیوں سے تحفظ کیلئے منصوبہ بندی کرنی ہوگی ہر شخص اپنے آپ کو قوم کے مفادات کیلئے وقف کریں چاہے جس سطح پر ہو ایک دوسرے کے دست و بازو بنے ناکے ٹانگیں کھینچنے والے، گندی سیاست و اقتدار کے نشے نے مسلمانوں کو ستر سالوں سے آپسی رنجشوں میں الجھائے رکھا لیکن اب حالات سنگین ہوچکے ہے مسلم تنظیموں کو اور قائدین کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا ایک دوسرے کی مدد کرنے ہوگی صرف اسٹیج شئیر کرنے سے کام نہیں بننے والا ہے۔ بلکہ ہر لحاظ سے متحد ہوکر ملی مفادات کیلئے کام کرنا ہوگا قوم کے سامنے ایک ٹارگیٹ رکھنا ہوگا اور اس کے اوپر کام کرنا ہوگا تب جاکر کچھ سالوں میں ایک ایسی جماعت تیار ہوگی جو عدل و انصاف کی سربلندی کیلئے ظالموں کے مقابلے میں کھڑی ہوسکتی ہے جو مظلوم اقوام کے ساتھ انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ان کیلئے ڈھال بن سکتی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ ہر لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنایا جائے باتوں سے کچھ نہیں ہونے والا ۔ اسی لیے اقبال نے کہا تھا

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے