آخر کب بیدار ہوگی حکومت وقت : عقیل احمد خان

38

آخر کب بیدار(دھن گھٹا سنت کبیر نگر: رپورٹ عقیل احمد خان ) ہوگی حکومت وقت اور کب سنیں گے افسر شاہی اور ہمارے حلقے کے لیڈران الیکشن کے موقع پر خوب کام کرانے کا وعدہ کرتے ہیں،اور ریاستی حکومت جب اقتدار میں آئی تو دو تین ہی مہینے میں گڑھا مکت کا نعرہ دیا تھا اور اترپردیش کے وزیر اعلی نے بھی اس بات کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار میں آئے ہوئے تین سال کے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن ابھی تک سڑکوں کا یہی حال ہے کہ ہر طرف سے جماؤ اور راہگیروں کو دقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، نمائندہ نے جب دھن گھٹا تحصیل کی معروف ومشہور اور قدیم بازار مہولی کا دورہ کیا جہاں دکھن چوراہا اور پچھم چوراہا مڑہا روڈ اور جھنگراپار کی روڈ بالکل خستہ ہوچکی ہے اور تین تین فٹ پانی بھر گیا ہے اور گاڑیاں آدھی سے زیادہ پانی میں ڈوب جاتی ہیں راہگیروں سے لیکر پیدل مسافروں اور دکانداروں کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس لئے دکانداروں اور راہگیروں نے مطالبہ کیا ہے مہولی کی سڑکوں کی مرمت جلد سے جلد کردی جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جاسکے ابھی تو بارش نے اپنی ایک ہلکی جھلک دکھائی ہے لیکن اس کے دونوں جانب کی پٹری پر گڈھے میں جمع پانی اور گیلی مٹی سے جس طرح کی پھسلن ہوگئی ہے اس سے حادثات میں مزید اضافے ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے تجدید کاری کے نام پر ہر سال اس کی لپائی پٹائی تو کردی جاتی ہے مگر کسی کو اسکی فکر نہیں ہوتی کہ اس سڑک کی توسیع کردی جائے یا کم سے کم اسکے دونوں جانب کی پٹریوں کو پختہ کرادیا جائے۔

 

پٹریوں کے گڈھوں کو تو مٹھی بھر مٹیوں سے دفن کرکے ٹھیکیدار اپنا فرض ادا کرکے چلے جاتے ہے مگر اسے نہیں معلوم کہ یہی مدفون گڈھے چند دنوں بعد اپنی اصلی حالت پر واپس آجاتے ہیں اور دونوں پٹریوں کے کنارے بائیک اور سائیکل سوار مسافروں کے لئے موت کا کنواں ثابت ہونے لگتے ہیں اور یہ گڈھے کتنے گھروں کے چراغ غل اور کتنے ماؤں کی گودیں سونی اور کتنے بچوں کو یتیم تو کتنے عورتوں کے سہاگ چھین لیتی ہے لیکن علاقائی لیڈران اور افسر شاہوں اور ٹھکیداروں کا کیا وہ تو چمچماتی بند گاڑیوں میں آتے ہیں اور ہوا کی رفتار سے واپس چلے جاتے ہیں حادثات کا شکار تو اس سڑک کے پچاسوں ،، گاؤں کے باشندے اور راہگیر ہوتے ہیں۔

اور ویسے بھی گاؤں اور کسانوں کی سنتا کون ہے اور انکی جانوں کی قیمت بھی بڑی سستی ہوتی ہے اور افسوس112 نمبر کی پولیس بھی اس سڑک پر مسلسل دوڑتی رہتی ہے اور انکی آنکھیں اپنے شکار کو حاصل کرنے میں اتنی تیز ہوتی ہیں مگر انہیں اس سڑک کے پٹریوں کے گڈھے اور حادثات میں زخم سے تڑپتے انسان کی کراہ بالکل نہ سنائی دیتی اور نہ ہی دکھائی دیتی ہے لیکن یاد رکھیں جب انسان بیزار ہوجاتا ہے اور اسکی آوازیں سننے والا کوئی نہیں ہوتا تو پھر وہ اپنے پر اتر آتا ہے اور انصاف کے لئے قانون کے دائرے میں رہتے وہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو اسے مناسب لگتا ہے سڑکیں مقفول کردیتا ہے سیاسی نیتاوں کے گھروں کا گھیراو کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ڈی ایم اور کمشنر صاحب کے بنگلوں کے سامنے بطور احتجاج اپنے مطالبے کے تکمیل تک بیٹھنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور شاید یہاں کی عوام کچھ دنوں بعد اسی جمہوری طریقہ کو اپنانے پر مجبور ہوجائے کیونکہ اس سڑک کے کنارے آباد گاؤں کے تمام باشندے اب تنگ آچکے ہیں وہ کب تک اپنے لوگوں کو اس سڑک کے نام پر قربان کرتے رہیں گے علاقائی عوام کی آواز کے ساتھ اپیل کی ہے کہ محکمہ سڑک اور انتظامیہ اور متعلقہ لیڈران سے کہ وہ وقت رہتے خواب خرگوش سے جاگیں ورنہ اگر یہاں کی عوام جاگ گئی تو پھر اس کے ذمہ دار آپ ہونگے _