آخر ملت کی بیٹیوں کے قدم کیوں بہکے ارتداد کا دھواں کیوں اٹھا؟؟ 

34
                       (آئینہ سچائی کا)
تحریر۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی
آجکل سوشل میڈیا پر اور اخباروں کے صفحات پر کچھ ایسی خبریں نظروں کے سامنے سے گذرتی ہیں کہ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں جسم لرزہ براندام ہوجاتاہے دل و دماغ پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ ایک باپ کی پگڑی کیسے اچھل گئی گھر کیسے ماتم کدہ بن گیا ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اچانک ناگہانی حادثات ہوتے ہیں گھر کا کوئی فرد موت کی آغوش میں سما جاتاہے تب گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوجاتا ہے مگر آجکل تو جیتے جی ایسا منظر پیش آنے لگا،، ماں باپ کتنے ناز و نعم سے اولاد کی پرورش کرتے ہیں بیٹے اور بیٹیوں کو آنکھوں کا تارا کہتے ہیں ایک باپ فقیر ہوکر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے بیٹی ہے تو اس کے لئے اچھا رشتہ تلاش کرتا ہے اور جب بیٹی کی وداعی ہوتی ہے تو باپ کہتاہے اے میری دختر جان شرافت دکھ سہنے کی ہمت کرنا، اپنے بڑوں کی عزت کرنا، ساس کی بیٹی بن کر رہنا، ان کی سننا اپنی کہنا،ماں کہتی ہے کان میں آکر، روئی کھوئی شکل بناکر، بیٹی یہ ہے وقت جدائی، تو تو ہوئی ہے آج پرائی، میں نے تجھے نازوں سے پالا، تو ہے میری آنکھوں کا اجالا، چھانے لگا گھر میں اندھیارا، چھوٹ رہا ہے آنکھوں کا تارا، خوشیوں میں پوشیدہ غم ہیں، دودھ کی میرے تجھ کو قسم ہے، آبرو دنیا میں رہ جائے، کوئی نہ تجھ پہ انگلی اٹھائے پھر ایک بار باپ لڑکھڑاتے ہوئے اور آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے قدم بڑھاتا ہے اور بیٹی سے لپٹ کر کہتاہے،، لے کے چلا کوئی باپ کی لاٹھی اور ماں کے گلے کا ہار،، بیٹی دیکھ ڈولی ہے تیار بیٹی دیکھ ڈولی ہے تیار تجھے شوہر کی خدمت کرنا ہے، بیٹی آج سے تیرے نام کے ساتھ میرا نام نہیں بلکہ تیرے شوہر کا نام ہوگا، اب ولدیت نہیں بلکہ زوجیت لکھی جائے گی، تیرے جنم کے ساتھی ہم تھے اور تیرے کرم کا ساتھی شوہر اور تیری سسرال والے ہیں بیٹی یہی قانون قدرت ہے ڈولی کہیں سے اٹھتی تو ارتھی کہیں اور جگہ سے اٹھتی ہے بیٹی تو جس گھر میں پیدا ہوئی ہے اب اسی گھر میں آئے گی تو مہمان کہلائے گی بیٹی یاد رکھنا شوہر کا وہ مقام ہے کہ اتفاقاً باپ اور شوہر ایک ساتھ پانی مانگ دیں تو باپ سے پہلے شوہر کی خدمت میں پانی پیش کرنے کا حکم ہے،، جا بیٹی جا تیرا گھر آباد رہے ، تیری خوشیاں آباد رہے،، واقعی جب قاضی نکاح کے لئے لڑکی سے اجازت لینے جاتا ہے تو وہ عجیب منظر ہوتاہے نکاح کی اجازت دیتے ہوئے لڑکی کا وجود کانپ جاتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ بس اب میرے نام کے آگے آج سے میرے باپ کا نام ختم آج میرا سفر سسرال کے لئے ہوگا اور وہاں سے دوسرا سفر قبرستان کے لئے ہوگا بیٹی کی وداعی کا منظر بڑا غمناک ہو تا ہے پھر بھی نہ جانے کیسے آج ہماری ملت کی بیٹیوں کے قدم بہک گئے اور اپنے خاندان کی ناک کٹوانے لگیں اور بے شرمی و بے حیائی اور بے غیرتی یہاں تک کہ مرتد تک ہونے لگیں، ایک خدا کو ماننے والی منکر خدا سے عقد کرنے لگیں، دین و دنیا دونوں برباد کرنے لگیں بیٹیوں کے اندر اتنی ہمت کہاں سے آئی کہ گھر کی دہلیز کے باہر قدم نکل گیا اور باپ کی پگڑی کو روندتے ہوئے، ماں کے دودھ اور اس کے ارمانوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، رب کے قرآن اور نبی کے فرمان سے منہ موڑ تے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کفر کے ہاتھوں میں دیکر ساتھ رہنے اور ساتھ جینے مرنے کا فیصلہ کرلیا اور اقرار بھی کرلیا آج تو ماحول اتنا خراب ہوگیا کہ لوگوں کی زبان سے یہ دعا نکلنے لگی کہ ا ے اللہ بیٹی دینا تو دولت بھی دینا اے اللہ بیٹی دینا تو ہماری عزت کو سربازار نیلام ہونے سے بچانا لیکن کبھی ہم نے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا اس طرح کی خبریں اخبار میں پڑھا، چار دن تبصرہ کیا پھر ختم یاد رکھنا اگر اس پر روک نہیں لگائی گئی تو آج ارتداد کا دھواں اٹھ رہا ہے جو کل شعلہ بن سکتاہے اس لئے معاشرے کی اصلاح ضروری ہے مگر خود اپنے گھر سے اور مساجد سے یعنی گھر کا سرپرست اپنی ذمہ داری نبھائے اور ائمہ مساجد خطبہ جمعہ میں بیٹیوں کو ارتداد سے روکنے کی اپیل کریں، نکاح و شادی کو آسان کریں، زیادہ سے زیادہ گاؤں میں ہی اپنی بیٹوں اور بیٹیوں کا رشتہ کریں اور ایک باپ جب اپنی بیٹی کا کہیں رشتہ طے نہیں کیا ہے تو بیٹی کے ہاتھوں میں موبائل کہاں سے آئی، ہر مہینے بیٹی کی موبائل میں ریچارج کہاں سے ہوتاہے اور کیسے ہوتاہے بیٹی کس سے گھنٹوں گھنٹوں بات کرتی ہے ان سب حرکتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ہمارے معاشرے میں جہیز ناسور ہے، مہنگی مہنگی شادیاں نکاح کو مشکل بنارہی ہیں اور زنا کو آسان بنا رہی ہیں اور زنا آج اتنا آسان ہو گیا کہ ہمارے دروازے پر دستک دینے لگا، دروازہ کھلنے بھی لگا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر کا پنجہ ملت کی بیٹیوں کے گریبان تک پہنچ گیا اللہ رحم کرے اور ہمارا ایمان سلامت رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین-