آخر سیمانچل کی ترقی کا خواب اب تک ادھورا کیوں؟؟

105

ازقلم: معراج خالد ارریاوی

اگر ہم ملکی سطح پر اپنے سیاسی وسماجی مفادات کا تحفظ اور اپنے حلقے کی ترقی وخوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں نہ صرف اپنے اندر کے سیاسی شعور کو بیدار کرکے علاقہ کے مسائل سے جڑے ہر پہلو پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا بلکہ ہماری نئی نسل کو بھی اس سمت میں پوری خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔

اگر تمام تر سیاسی اور سماجی کوششوں کے باوجود

سیمانچل

کی ترقی آج تک ممکن نہیں ہو سکی تو ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اس کے پیچھے کی کمزوری کو سمجھنا اور یہ سوچنا ہوگا کہ آخر سیمانچل کی ترقی کا خواب اب تک ادھورا کیوں ہے اور آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ آج تک یہ علاقہ پسماندگی اور تعلیمی واقتصادی بحران سے نہیں نکل سکا وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں مگر خطۂ سیمانچل کے ساتھ سراسر نا انصافی ہوئی ہے ۔

بہار اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق

  • سیمانچل
  • میں 76.7 فیصد مسلمان یا تو غریب ہیں یا سطح غریبی سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اس کیلئے اکیلے سرکار کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جمہوری ملک میں اپنے حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

    یاد رکھئے جب تک ہم ان تمام موضوعات پرکسی بھی جانب داری کے بغیر نہیں سوچیں گے تب تک آگے کا سفر ممکن نہیں ہو سکے گا صرف وعدوں اور بڑے بڑے منصوبوں سے کسی علاقے کی ترقی کے سپنے پورے نہیں ہوتے بلکہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے عوام سے الیکشن کے وقت میں کئے گئے وعدوں کو پوری ایمانداری وجوابدہی کے ساتھ عملی میدان میں لانا ہوتا ہے لیکن اگر سیمانچل کی سرزمین سے جڑی سچائیوں کے حوالے سے گفتگو کی جائے۔

    تو کہا جا سکتا ہے کہ مختلف سیاسی رہنماوں کے ذریعہ اس علاقہ کی ترقی وخوشحالی کے حوالے کے سلسلے میں کئے جانے والے نہ جانے ایسے کتنے وعدے اپنی تکمیل کا راستہ دیکھ رہے ہیں جن کا سیدھا رشتہ عوامی مفادات سے ہے یہ ساری صورت حال شاید اس لئے ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھانے کا یاتو موقع نہیں دیا گیا یا ان کے مطالبے جھوٹے وعدوں کی تہ میں دبا دیئے گئے پچھلے کچھ سالوں سے جس طرح ارریہ پارلیمانی حلقہ کی عوام کے حالات دن بدن خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں ۔

    وہ ایک افسوسناک پہلو ہے بات چاہے ایک گاوں کو دوسرے گاوں سے جوڑنے والی سڑکوں کی کریں یا سیلاب کا خطرہ پیدا کرنے والے ندی نالوں کی خستہ حالی کی معاملہ چاہے اسکول وکالج کی کمی کا ہو یا سرکاری محکموں کی بدعنوانی کا یا پھر بات کی جائے کسانوں کے مسائل کی ہر سطح پر یہاں کی عوام بس سیاسی نمائندوں کے وعدوں اور بھروسے کے سہارے زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔