آج ملت اسلامیہ ہند یتیم ہوگئی

110

کیا واقعی حضرت امیر شریعت کیا وصال ہوگیا ہے؟جب سے حضرت مولانا الشاہ محمد ولی رحمانی کے انتقال کی خبر ملی ہے، یہ سوال ہرکوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے۔فون کا ترقی یافتہ زمانہ ہے،خبر صحیح ہے،پارس ہاسپیٹل میں اس وقت حضرت ابدی سکون کی نیند لے رہے ہیں، سبھی ایک دوسرے سے وہاں بھی یہی پوچھ رہے ہیں، سننے والوں کو اپنے کانوں پر اور دیکھنے والوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہے،۔ہر آدمی بار بار اورایک ہی شخص کئی بار صرف اسی ایک خبر کی تصدیق پر مصر ہے۔ آقائے مدنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصالی خبرکی یاد تازہ ہوگئی ہے۔لکھنے والے لکھنے سےعاجز اور بولنے والے بولنےقاصرہیں۔جب نقصان وہم وگمان سے زیادہ ہوجاتا ہے تو ایک انسانی فطرت اس خبر کوجھٹلادیتی ہے،ماننے پرجلدی آمادہ نہیں ہوتی ہے۔یہ سب کچھ حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ علیہ کے انتقال پر دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے،دراصل یہ حضرت کی قبولیت اوربےپناہ مقبولیت کا نتیجہ ہے۔آج ملت ایک عظیم ملی قائد، بہترین سرپرست، نباض وقت،معمار قوم وملت،مسیحائے امت سے محروم اور یتیم ہوگئی ہے۔اسوقت ملت کو صدیق رض کی شدید ضرورت ہے،جو صبر کادامن تھام بھی لے اور صبر پر اس ملت کو باندھ بھی لے،اورساتھ ہی ساتھ یہ جملہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبان سے ادا کردے،”واللہ ،اللہ تعالی آپ پر دوموتیں وارد نہ کرے گا،یہی ایک موت تھی جو آپ پر لکھی ہوئی تھی”
امیر شریعت آپ واقعی اسم بامسمی ہیں، آپ زندگی میں بھی سراپاولی رہے ہیں،اور آج آپ کا انتقال ہوگیا ہےتوآپ کا نقش قدم ہمارے لئے سراپازندگی ہے۔ہم صبر کرتے ہیں، اور ایسی بات نہیں کہتے ہیں جس سے خدا ناراض ہوتا یے، عہد کرتے ہیں کہ جب تک زندگی ہے، ہم آپ کی جرت وہمت، عزم وحوصلہ اور خلوص وللہیت کی لاج رکھیں گے اور اس کا خون نہیں ہونے دیں گے،ان شاءاللہ العزیز ۔
یاالہی!حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ علیہ کے جملہ خدمات کو بیحد قبول فرما لیجئے، قبولیت تامہ نصیب فرمادیجئے،جنت الفردوس عطا کردیجئے،اور اخیر میں ایک بارپھر وہی دعا کہ،ہم جملہ پسماندگان کو صبر جمیل کی دولت عطا کردیجئے،آمین یارب العالمین،
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
ایک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے،
یکے از خاکپائے، حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ علیہ ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۲۰/شعبان المظم ۱۴۴۲ھ