آج تو بزم میں ہر آنکھ تھی پرنم جیسے :حافظ میر ابراھیم سلفی

64
درد دل کے واسطے پیداکیاانسان کو
ورنہ طاعت کے کم نہ تھے کروبیاں
عرصہ طویل سے اس بات کا ادراک ہورہا ہے کہ قوم و ملت کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے کثیر تعداد میں معاشرے میں پنپ رہے ہیں۔ زخموں پر مرہم  لگانے والے اجنبیت کے احساس سے دوچار ہیں۔تنقید کرنے والے گھر گھر موجود ہیں لیکن تعمیر کرنے والے گمنامی کے لمحات بسر کر رہے ہیں۔گفتار کے غازی ہر فن میں آگے ہیں لیکن کردار کے غازی قید خانوں میں محصور ہوچکے ہیں۔قوم و ملت کا جسم واحد بے انتہا زخموں کا شکار ہے جن کی مرہم پٹی کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔یہ قوم جہل کی زد میں بری طرح پھنس چکی ہے۔علمی حلقوں سے لیکر جاہلانہ مشاعروں تک بازی گروں کا قبضہ جمع ہوا ہے۔ کٹر پرستی نے علم کی زینت و عمل کی خوشبو سے ہمیں پوری طرح محروم کردیا ہے۔ اعتدال پسند و  ذی شعور افراد سکوت بے بسی میں تڑپ رہے ہیں۔منبر و محراب، جو کبھی محبت و الفت کے پیغام کو عام کرانے کے مراکز تھے، اب نفرتوں کے انجمن بن گئے ہیں۔سلام و دعا، جو کبھی مسلمانوں کا شعار ہوا کرتا تھا، اب  یاد ماضی بن کے رہ گیا ہے۔فکری اختلافات، جو سنت کائنات ہے، اب خون کی ہولی کھیلنے کا آلہ بن چکا ہے۔اہل علم و اہل فکر، جو کبھی قوم کے معمار ہوا کرتے تھے، اب امارۃ الصبیان کے نیچے دب گئے ہیں۔گویا کہ کائنات کسی مجدد کی تلاش میں ہے۔حرام زر و زمین، جو کبھی ناسور سمجھا جاتا تھا، اب رگوں میں دھوڈنے والا خون بن چکا ہے۔گویا کائنات کسی تجدید کی منتظر ہے
کائنات کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم عروج کی انتہا پر پہنچی، زوال مقدر ہوتی گئی۔جب بھی کوئی قوم معصیت کے دلدل میں پوری طرح ڈوب گئی،توازن برقرار رکھنے کے لئے کبریائی طاقت نے ان کا بیڑا غرق کردیا۔ تاریخ کے کچھ خوفناک اوراق مطالعہ کرنے سے احساس ہورہا ہے کہ جس تیز رفتاری سے معاصی و بغاوت الہی پروان چڑھتی جارہی ہے ، عقاب کبریائی ہمارے قریب آتے جارہی ہے۔علم و حکمت، جو کبھی اخلاقیات کی غذا، زندگی گزارنے کا راستہ تصور کیا جاتا تھا، اب فحاشی کے بازار گرم کرنے کا ہتھیار بن چکا ہے۔علم و ہنر، جو کبھی عظمت الہی کو ادراک کرنے کا مادہ مانا جاتا تھا، اب کذب باری کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔علم سے کبھی قوموں کو بصیرت حاصل ہوا کرتی تھی، لیکن اب بصیرت کے ساتھ ساتھ بصارت بھی محروم کرنے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔عصری تعلیمی نظام فرعونی سازش کا وہ واضح اور نمایاں پہلو ہے جس کی کڑواہٹ سے بھی ہم آشنا ہیں لیکن پینے کے لئے بھی مجبور۔
دن بہ دن شریعت کی سرحدیں پامال ہوتی جارہی ہیں، الحاد کا مرض ہماری روحانی قوت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔علم اور معلومات کے فرق کو مٹایا گیا، معلومات کو علم کا نام دے کر، علم کو نصاب سے ہٹایا گیا۔
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
تیری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
میرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے
سادگی، شرم و حیا، حلم و بردباری، اخلاقی حسن جیسے اوصاف ممدوحہ اب دیواروں پر ہی لکھے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔اختلاط نے ہمیں حسن بازاری میں مشغول کرکے رکھا ہے۔ بزدل اور لاوارث قوم کے قبضے میں رہ کر اب وادی کے مسلمانوں میں بھی اخلاقی کمزوریاں جنم لے چکی ہیں۔ گندگی و نجاست کو ہم تہذیب کا نام دے کر پوشیدہ رکھ رہے ہیں۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ زمین بھی ہمارے وجود سے تنگ آچکی ہے تبھی تو تھرتھراہٹ کی حالت میں مستقر ہے۔خون کی ہولیوں سے ندی نالے آنسو بہا رہے ہیں۔انسان صفت درندوں کی حیوانیت دیکھ کر آسمان بھی اشک بار ہے۔بدر میں نازل شدہ ملائکہ جیسے ہماری حالت پر ترس کھا رہے ہیں۔ سعد بن معاذ کے جنازے میں شامل شدہ فرشتے جیسے ہماری تباہی پر تالیاں بجا رہے ہیں۔طلب شہرت نے اخلاص کے پیکروں کو صف ہستی سے مٹا دیا۔
حرص و ہوس کے شاہکاروں نے عصمتوں کو خرید و فروخت کے لئے سستے داموں پر مہیا رکھا۔ طلب مال نے قطع رحمی کو رسم بناکر رشتوں کا جنازہ نکال دیا۔ جذبات کا سودا سنگ دلی سے کیا گیا۔ احساسات کا سمندر سرعام نیلام کیا گیا۔ یہاں کی سیاست بازاری، یہاں کی معیشت بازاری، یہاں کے قوانین بازاری۔۔۔۔۔ یہاں کی جانیں بے قیمت، یہاں کا درد بناؤٹی۔
کچھ تو اے یار علاجِ غمِ تنہائی ہو
بات اتنی بھی نہ بڑھ جائے کہ رسوائی ہو
ڈوبنے والے تو آنکھوں سے بھی کب نکلے ہیں‌
ڈوبنے کے لیے لازم نہیں گہرائی ہو
جس نے بھی مجھ کو تماشا سا بنا رکھا ہے
اب ضروری ہے وہی شخص تماشائی ہو
اب ضرورت ہے تو تجدید کی، ضرورت ہے کسی مجدد کی، یہ مناظر کسی کے قدموں کے منتظر ہیں۔ اب ضرورت ہے بدلاؤ کی، ایک نئے پروگرام کی، ایک نئے کل کی۔ ایسے سورج کی جو طلوع ہو کر اس ظلمات بھری رات کا خاتمہ کرسکے۔ یہاں ظلم کو انصاف بناکر عروج دیا گیا، یہاں مظلوم کو مجبور بناکر مجرم سمجھا گیا۔ یہاں حق پرستوں کو زندان میں سجا دیا گیا، یہاں امامت کو منصب اور منصب کو مذھب تسلیم کیا گیا۔مذھب کو فلسفہ اور فلسفے کو ضابطہ حیات بنایا گیا۔بناوٹ کا حسن، عارضی چہل قدمی، رقص و سرور، میخانہ و شبانہ محفلوں کو مزین کردیا گیا۔طاغوت کے پجاریوں کو رب اور رب تعالیٰ کو ظن و گماں بنایا گیا۔ خدمت کو عادت بد اور خوشامد کو خدمت مانا گیا۔مفلسی کو بیماری اور امیری کو شہنشاہی تصور کیا  گیا۔علاج کیا ہے؟؟ بس کچھ الفاظ۔۔۔۔۔ جو نہ میرے اور نہ آپ کے، جس کبریائی طاقت نے ہمیں وجود بخشا، اسی شہنشاہ اعظم نے بیان فرماۓ ہیں، اور بیان کرکے پہنچانے کی ذمہ داری بھی کسی عام فرد کو عطا نہ کی بلکہ سید البشر محمد بن عبداللہ ﷺ کو منتخب کیا۔۔۔۔ وہ الفاظ نہ صرف پڑھنے ہیں بلکہ دل و دماغ میں اتار کر نسخہ کیمیا سمجھ کر عملانے ہیں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا،”میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “(صحیح مسلم) اللہ تعالیٰ روزِ قیامت بندے سے فرمائے گا : میں بیمار تھا ، لیکن تو نے میری دیکھ بھال نہیں کی تھی _ بندہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں کیسے تیری دیکھ بھال کرتا ، تو تو سارے جہاں کا نگہبان ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا _ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو نے اس کی دیکھ بھال کی ہوتی تو مجھے اس کے پاس پاتاـ
(پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، مگر تو نے مجھے نہیں کھلایا تھا _ بندہ کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کیسے کھلاتا؟ تو تو سارے جہاں کا پالن ہار ہے _ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، مگر تو نے اسے نہیں کھلایا تھا؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اسے کھلاتا تو اسے میرے پاس پاتاـ
(پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، مگر تو نے مجھے نہیں پلایا تھا _ بندہ کہے گا : اے میرے رب !
میں تجھے کیسے پلاتا؟ تو تو سارے جہاں کا پالن ہار ہے _ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، مگر تو نے اسے نہیں پلایا تھا_ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اسے پلاتا تو اسے میرے پاس پاتا؟ ” ( مسلم : 2569)
شاید ان دو روایتوں پر غور کرنے سے اور ان پیغام ادراک کرنے سے ہمارے ضمیر زندہ ہوجائیں۔ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں مقصد حیات سمجھنے کی توفیق عنایت فرماۓ۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔