جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتآتی ہے ان کی یاد میرے مطالعہ کی روشنی میں

آتی ہے ان کی یاد میرے مطالعہ کی روشنی میں

” آتی ہے ان کی یاد ” میرے مطالعہ کی روشنی میں

✍️قمر اعظم صدیقی

                                   9167679924

انوار الحسن وسطوی کی شخصیت ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ۔ پچھلے چالیس برسوں سے تسلسل کے ساتھ آپ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ درس و تدریس سے سبکدوشی کے بعد اردو کی خدمت کا دائرہ اور بھی وسیع ہو گیا ۔ صحت کی علالت کے باوجود آپ کی خدمت اردو کی لو مدھم نہیں ہوئ ہے ، آپ کے قلم کا جوہر آج بھی پورے آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے۔ مسلسل آپ کے شخصی مضامین ، تبصرے و دیگر تحریریں پٹنہ سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ قومی تنظیم، پندار ، تاثیر ، فاروقی تنظیم، عوامی نیوز و دیگر اخباروں میں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ آپ تقریباً 40 سالوں سے اردو تحریک سے منسلک رہ کر جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ قابل تعریف بھی ہے اور قابل رشک بھی ان کے یہ کارنامے نئ نسلوں کے لیے سبق آموز ہیں ۔ آپ کی خدمت اردو کا اعتراف کئ نامور و مشہور ادیبوں نے کیا ہے ۔ مشہور و معروف ادیب و شاعر مرحوم پروفیسر ثوبان فاروقی صاحب سابق صدر شعبہ اردو آر این کالج ، حاجی پور نے جناب وسطوی کے تعلق سے آج سے چھ سال قبل لکھا تھا ” انوار الحسن وسطوی ویشالی کے بابائے اردو ہیں ” ۔ اپنے اس جملے کی وضاحت کرتے ہوۓ انہوں نے لکھا ہے :

” انوار الحسن وسطوی کا شجرہ جنوں کئ واسطوں سے ہوتا ہوا مولوی عبدالحق سے جا ملتا ہے ۔ وہ یوں کہ انوار الحسن کا عشق اردو بھی حد جنون میں داخل ہوچکا ہے وہ اردو میں سوچتے ہیں اور خواب بھی اردو زبان میں ہی دیکھتے ہیں ۔ زبان اردو میں خواب دیکھنا بڑی بات ہے ۔ اس کا تعلق کسب و مجاہدہ سے نہیں ہے ، یہ فیضان قدرت ہے ، ایک عطیئہ خداوندی ہے ، جسے نصیب ہو جائے ۔ ” ( ماخوذ : ” نقوش قلم ” کے بیک کور سے)

 پروفیسر فاروق احمد صدیقی سابق صدر شعبہ اردو ، بہار یونیورسٹی ، مظفرپور نے جناب وسطوی کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے :

"بہار میں اردو تحریک کا موجودہ منظر نامہ جن خادمان اردو کے ناموں سے معتبر اور منور ہے ، ان میں ایک بے حد اہم اور نمایاں نام جناب انوار الحسن وسطوی کا بھی ہے جو ایک معروف و ممتاز قلم کار کی حیثیت سے بھی اردو کے علمی اور ادبی حلقوں میں قدر و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔ اردو زبان و ادب سے ان کا والہانہ عشق کسی سوگند اور گواہ کا محتاج نہیں۔ وہ بڑے خلوص،خموشی اور تسلسل کے ساتھ اردو زبان و ادب کی بھی خدمت کر رہے ہیں۔”

(ماخوذ : "انعکاس قلم ” کے بیک کور سے )

زیر مطالعہ کتاب ” آتی ہے ان کی یاد ” ٥١ مرحومین کی یادوں کا مجموعہ ہے ۔

 مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی ، نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ” آتی ہے ان کی یاد "

 کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ :

 ” فی الوقت وقت میرے سامنے مرحومین پر لکھے گئے ان (انوار الحسن وسطوی ) کے بیش قیمت مضامین کا مجموعہ ” آتی ہے ان کی یاد ” ( یاد رفتگاں ) موجود ہے ۔ یہ اکاون (٥١) مرحومین کے احوال و آثار پر مشتمل ہے – ان میں نامور ، گمنام ، اہم اور غیر اہم سبھی قسم کے لوگ ہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جن سے انوار الحسن وسطوی صاحب کی ملاقات رہی ہے اور وہ بھی ہیں جن سے ان کی ملاقات نہیں ہو سکی ۔ وسطوی صاحب کا قلم دونوں پر یکساں چلا ہے اور خوب چلا ہے۔ سہل اسلوب اور وسیع الفہم تعبیر کے ذریعہ مرحومین کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ حیات و خدمات اور احوال و آثار کا پورا مرقع سامنے آجاتا ہے ۔ سارے مضامین میں شخصیتوں کی محبت ، عقیدت و الفت کی جلوہ گری نے مندرجات کو خشک اور سپاٹ ہونے سے بچا لیا ہے۔ حرف حرف روشنی اور سطر سطر میں خلوص کا بحر بیکراں موجزن ہے ۔ ( فلیپ کور سے )

    ڈاکٹر ظفر انصاری ظفر اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اردو، الہ آباد یونیورسٹی لکھتے ہیں کہ

 پیش نظر مجموعہ مضامین ” آتی ہے ان کی یاد ” ان کے ٥١ مضامین پر مشتمل ہے ، جس میں انہوں نے نے علم و ادب شعر و سخن اور سماجی و سیاسی خدمات سے وابستہ ٥١ شخصیتوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا ہے ۔ ان میں کچھ ملک گیر بلکہ عالمگیر شہرت کی حامل شخصیات بھی ہیں اور کچھ علاقائی افراد و اشخاص بھی ہیں جو اپنی بیش بہا علمی ، ادبی ، سماجی و سیاسی خدمات کے باوجود پردہ خفا میں پڑے ہوۓ ہیں ۔ انہوں نے ایسی شخصیات کو اپنی توجہ کا مرکز بنا کر ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے ، جسکی انہیں ضرور داد ملنی چاہیے ۔ ( بیک کور سے )

زیر مطالعہ کتاب کے صفحہ چار ، پانچ پر مصنف کا سوانحی خاکہ درج ہے ، جبکہ صفحہ چھہ سے آٹھ تک مضامین کی فہرست ہے۔ پیش لفظ کی تحریر مصنف نے خود سپرد قلم کیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی اصل خوبی یہ ہے کہ مصنف نے غیر معروف لوگوں کو قدر کی نگاہوں سے دیکھا اور ان کی خوبیوں کو اجاگر کر کے پکی روشنائی میں قلم بند کر دیا اور ہمیشہ کے لیے ان کی خدمات کو محفوظ کر دیا۔

بڑے ادیبوں ، شاعروں ، افسانہ نگاروں ، تنقید نگاروں ، صحافیوں ، علمائے کرام ، دانشور حضرات پر تو بہت لکھا جاتا رہا ہے ۔ اور لکھا جاتا رہے گا ۔

معروف شخصیتوں کے درمیان سے ویسے شخص کو تلاش کرکے ان کی خدمات کو منظرعام پر لانا جنہوں نے گمنامی کی زندگی گزاری اور اپنی خدمات کو اجاگر نہیں کر پائے یہ اپنے آپ میں ایک بڑا کام ہے ۔ مصنف کا یہ کارنامہ قابل قدر بھی ہے اور قابل ستائش بھی ہے۔ اس چھوٹی سی تحریر میں تمام مضامین کی تفصیل آپ حضرات کے سامنے لائی جائے یہ ممکن تو نہیں ہے لیکن بطور نمونہ چند گمنام شخصیتوں کے اوپر لکھی گئی چند باتیں آپ کے سامنے رکھنے کی سعی کرتا ہوں ۔

صفحہ 31 پر حمید ویشالوی کے تعلق سے اپنی تحریر میں مصنف نے لکھا ہے :

     ” حمید ویشالوی ایک ماہر فن اور قادر الکلام شاعر تھے لیکن شہرت اور ناموری کی جانب سے ہمیشہ بے نیاز رہے۔ ادب کی دنیا میں اپنی پہچان بنانے کی کبھی کوشش نہیں کی ” (ص – 31)

انوارالحسن وسطوی اپنے ہی موضع حسن پور وسطی کے غیر معروف شاعر جناب خیر وسطوی کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی بھی تعلیمی سند نہ تھی اس کے باوجود وہ اپنی فطری ذہانت، ذاتی مطالعہ اور اہل علم و دانش کی صحبتوں میں بیٹھ کر اپنے اندر بہترین علمی صلاحیت پیدا کر لی تھی۔ ان کا مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ قرآن و حدیث کے ترجمے اور تفسیر بہت ہی اعتماد کے ساتھ بیان کرتے تھے ۔وہ کہنہ مشق شاعر تھے ان کی باتیں عالمانہ اور مدلل ہوتی تھیں۔ انیس سو چھیالیس

(1946 ء) میں انہوں نے باضابطہ اپنی شاعری کا آغاز کردیا تھا ۔ کلکتہ اور اس کے اعتراف کے مشاعروں میں شریک ہونے کا بھی ذکر مصنف نے کیا ہے ۔ خیر وسطوی کو جگر مراد آبادی ، آرزولکھنوی ، ناطق لکھنوی ، جوش ملیح آبادی ، علامہ اقبال ، مولانا ابوالکلام آزاد ، محمد علی جناح ، گاندھی جی وغیرہم سے بھی ملاقات کا شرف حاصل تھا باوجود اس کے خیر وسطوی غیر معروف رہے۔ انوار الحسن وسطوی نے اپنی تحریر کے ذریعہ خیر وسطوی کی شخصیت کو اجاگر کرنے کی جو سعی کی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔

      رحمت بہاری کے تعلق سے انوارالحسن وسطوی لکھتے ہیں کہ رحمت بہاری ” اردو اور بجکا ” زبان کے ایک زود گو ، قادرالکلام اور فی البدیہ شاعر تھے لیکن گوشۂ گمنامی کے اسیر رہ گۓ ۔ موصوف لکھتے ہیں :

” رحمت بہاری کا کوئی مجموعہ کلام تو شائع نہیں ہوا لیکن وہ اپنے کلام کو کتابچہ ، پوسٹر اور ہینڈ بل کی شکل میں شائع کرایا کرتے تھے اور انہیں علاقے کی علمی و ادبی شخصیتوں کے درمیان تقسیم کر دیتے تھے ۔ جس کے سبب ان کی شاعری کا چرچا پورے علاقے میں ہوا اور ان کے انتقال کو نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی ان کے اردو اور بجکا کے اشعار لوگوں کی زبان پر ہیں۔ ان کی دو طویل نظمیں "زرنامہ” اور "معجون مرکب” بہت مشہور ہوئی تھیں جو اب بھی نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی، بکساماں مہوا میں موجود ہے "

 (ص – 60 )

مصنف نے زاہد جمال صاحب استی پور ، حاجی پور ، کے تعلق سے بھی بہت ہی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں ۔ زاہد جمال صاحب ایک کامیاب تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی خوش مزاج ، ملنسار اور مہمان نواز انسان تھے ۔ علما و دانشور حضرات کے قدر داں تھے ۔ غریب امیر کا آپ کے اندر کوئی امتیاز نہ تھا ۔ آپ کی اردو دوستی بھی قابل قدر تھی ۔ آپ انجمن ترقی اردو ضلع ویشالی کے عرصہ تک خازن بھی تھے ۔ اللہ نے آپ کو ایک حادثاتی موت کے بعد ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے پاس بلا لیا ۔

 ” حافظ شمیم احمد کے تعلق سے مصنف موصوف لکھتے ہیں کہ:

     "حافظ شمیم صاحب نے محلہ مڑئ ،حاجی پور کی مسجد میں تقریباً ربع صدی تک امامت کے فرائض انجام دیے تھے۔ مرحوم نے محلہ باغ دلہن کی مسجد میں بھی چند برسوں امامت کی تھی ۔ موصوف چونکہ نابینا تھے اس لیے انہیں تنخواہ کی صورت میں جو کچھ مل جاتا تھا اسے وہ غنیمت سمجھتے تھے اور باشندگان محلہ حافظ صاحب کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتے تھے ” ( ص – 119 )

مصنف اپنے استاد محترم جناب محمد زبیر مرحوم سابق وائس پرنسپل ٹیچرس ٹرینگ کالج دگھی ، حاجی پور کے متعلق لکھتے ہیں کہ :

        ” زبیر صاحب مرحوم ایک مثالی شخصیت کے مالک تھے ۔ خود غرضی اور نفس پرستی سے انہیں دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔ تکبر گھمنڈ کو انہوں نے کبھی اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیا ۔ اخوت ان کی ذات تھی اور محبت ان کا مسلک تھا ۔ حق گوئی اور بے باکی ان کا شیوہ تھا ۔ وہ محبت اور خلوص کے پیکر تھے ۔ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ سلام و کلام میں پہل کرنا ان کی عادت تھی جس پر وہ زندگی بھر عمل کرتے رہے ۔

مرحوم کے اندر گرچہ بہت ساری خوبیاں موجود تھیں لیکن ان کی ایک خوبی حد سے زیادہ قابل تعریف اور طریقہ رسول کے عین مطابق تھی وہ ہے ان کی قوت برداشت اور خطاؤں کو معاف و درگزر کرنے کا جزبہ ۔ ( ص – 203 )

مصنف نے موصوف کے تعلق سے مزید تحریر فرمایا ہے کہ :

” مرحوم محمد زبیر صاحب حاجی پور کے مسلمانوں کی فلاح کے لیے بے حد خواہاں تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ حاجی پور کی مسلم بچیوں کے لیے کوئی اقلیتی ادارہ قائم کیا جائے جہاں یہ بچیاں اسلام کے دائرہ میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں ۔ باشندگان حاجی پور کی عدم توجہی کی وجہ سے مرحوم کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ” (صفحہ 205 )

اس طرح کے گمنام لوگوں کی اس کتاب میں بڑی تعداد موجود ہے ۔ جسے مصنف نے گوشۂ گمنامی سے نکال کر اس کتاب کی زینت بنایا ہے اور ان مرحومین شخصیتوں سے لوگوں کو متعارف کرایا ہے جس کے لیے میں پھر ایک بار جناب انوارالحسن وسطوی صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس طرح کے لوگوں پر ضرور لکھا جانا چاہئے جس سے کہ آنے والی نسلیں ان کی خوبیوں کو جان سکیں اور ان کی زندگی کو اپنا مشعل راہ بنا سکیں ۔

بخوف طوالت یہاں تمام تحریروں کا ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ ویسے غیر معروف لوگوں میں سید فصیح الدین احمد ، عبدالمغنی صدیقی ایڈوکیٹ ، شبیر احمد ، شمش الحق ، مولانا طاہر حسین ، مولانا محی الدین ، مولانا محمد شمس الہدیٰ ، محمود عالم ، محمد جمیل ایڈوکیٹ ، محمد نور الہدیٰ رحمانی ، محمد داؤد حسن ، محمد ذکریا ذکی ، محمد یوسف انجینیر ، مولانا نظام الدین خلش وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں جنہیں مصنف نے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے اور ان تمام لوگوں کی خوبیوں کو اجاگر کر کے گوشۂ گمنامی سے نکالنے کی کوشش کی ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ مصنف نے صرف غیر معروف شخصیتوں کو ہی اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے بلکہ چند مشہور و معروف شخصیات کا ذکر بھی اس کتاب میں بہت ہی بہتر انداز میں کیا گیا ہے جن کے نام حسب ذیل ہیں :

مولانا ابوالکلام آزاد ، ڈاکٹر ذاکر حسین ، ڈاکٹر رضوان احمد ، مولانا شفیع داؤدی ، عزیز بگھروی ، پروفیسر قمر اعظم ہاشمی ، قیوم خضر ، مولانا مظہر الحق ، مولانا محمد علی جوہر ، مولانا محمد سجاد رح ، ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی ، پروفیسر وہاب اشرفی وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔

        ” آتی ہے ان کی یاد ” قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون اور المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے جس کی کمپوزنگ احمد علی ، برلا مندر روڈ پٹنہ نے کی ہے ۔ اور طباعت روشان پرنٹرس نئ دہلی سے ہوئ ہے جو 288 صفحات پر مشتمل ہے۔ جسکی قیمت صرف 176 روپیہ ہے جو بہت مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل پیج بھی بہت دلکش اور خوبصورت ہے۔ مصنف نے اس کتاب کا انتساب ” ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ” سابق ایسو شی ایٹ پروفیسر، بہار یونیورسٹی ، مظفر پور کے نام کیا ہے۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر ممتاز احمد خاں اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ مرحوم نے اس کتاب کی اشاعت پر اپنی مسرت کا اظہار کیا تھا اور اسے بنظر تحسین دیکھا تھا ۔

امید قوی ہے کہ دوسری کتابوں کی طرح انوار الحسن وسطوی کی زیر مطالعہ کتاب بھی بنظر تحسین دیکھی جایے گی ۔ سوانح نگاری سے شغف رکھنے والوں کے علاوہ رسرچ اسکالر بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ کتاب کے تعلق سے مزید معلومات کے لیے مصنف کے موبائل نمبر 9430649112 سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے