آتا نہیں کوئی فن استاد کے بغیر!

61

از قلم : مجاہد عالم ندوی _ استاد : ٹائمس انٹرنیشنل اسکول محمد پور شاہ گنج ، پٹنہ

استاد ہوں مجھے اس پر ملال تھوڑی ہے
ملک کا مستقبل سنوارنا آسان تھوڑی ہے

ہمارا پیارا مذہب اسلام جو کہ ضابطہ حیات ہے ، اس میں جا بجا استاد کی عظمت کا تذکرہ ملتا ہے ۔
اساتذہ کی اہمیت اور ان کے مقام و مرتبے کو اور ان کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال پانچ ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے ، در اصل پانچ ستمبر کو ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کا یوم پیدائشی ہے ۔
وہ ہندوستانی سماجی ، ثقافتی کے دلدادہ ایک ماہر تعلیم ، عظیم فلسفی مقرر تھے ، ان میں ایک بہترین ٹیچر کے سارے گن موجود تھے ، اور عظیم خدمات کی وجہ سے بھارت سرکار نے آپ کے یوم پیدائشی کو یوم اساتذہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔
چونکہ طلبہ اور استاد کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی مثال دنیا میں کوئی نہیں ، اس رشتے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ استاد کا رتبہ والدین کے رتبے کے برابر ہوتا ہے ۔
والدین جسمانی نشوونما فراہم کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں جب کہ استاد فکری ، دینی اور اخلاقی لحاظ سے ترتیب فراہم کرتا ہے ۔
قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتا ہے ، اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی معاشرے کی فلاح و بہبود ، جذبہ انسانیت کی نشو و نما اور افراد کی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔
استاد وہ عظیم ہستی ہے جو ایک جانور اور انسان کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے ، استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے ، استاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بناتا ہے ، استاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گمراہوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے ۔
استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑ پودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے ، استاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن و امان اور محبت و یکجہتی کا پیغام پہونچاتا ہے ۔
استاد ایک ایسی ہستی ہے جس کے بغیر یہ دنیا نا مکمّل ہے ، استاد ایک ایسا سایہ دار درخت ہے جس کے نیچے بیٹھ کر لاکھوں افراد علم کی روشنی حاصل کرتے ہیں ، استاد وہ ہوتا ہے جو جینے کا سلیقہ سیکھاتا ہے ، استاد وہ ہوتا ہے جو سوچنے کا طریقہ بتاتا ہے ، استاد کی وجہ سے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے ۔
استاد وہ ہے جو بنجر زمین کو کھلیان بنا دیتا ہے ، استاد وہ ہے جو پتھر کو تراش کر ہیرا بنا دیتا ہے ، استاد وہ ہے جو لوہار بھی ہے اور کسان بھی ہے ، استاد وہ ہے جو معمار وطن بھی ہے ، وہ قوم کو تہذیب و تمدن ، اخلاقیات اور معاشرتی اتار چڑھاؤ سے واقف کرواتا ہے ، استاد کا مقام معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، کیونکہ استاد ہی استاد ہی قوم کے نونہالوں کو تعلیم دیتا ہے ، انہیں اچھا برا سکھاتا ۔
ارسطو کا قول ہے جو بچوں کو تعلیم دیتے ہیں وہ ان سے زیادہ عزت مند اور قابل احترام ہیں جو بچوں کو پیدا کرتے ہیں ، یہ اس لیے کہ والدین بچوں کو صرف زندگی دیتے ہیں اور اساتذہ ان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ، الغرض استاد ہر لحاظ سے واجب الاحترام ہے ۔
سکندر اعظم کا واقعہ مشہور ہے ، وہ اپنے ارسطو کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، راستے میں ایک دریا آیا تو دونوں میں یہ مشورہ ہوا کہ پہلے پانی میں اتر کر کون اس کی گہرائی کا اندازہ لگائے ، سکندر اعظم کی ضد تھی کہ دریا کی گہرائی ناپنے کا اسے موقع دیا جائے ، ارسطو نے سکندر کو اس سے باز رکھتے ہوئے کہا کہ میں تمہارا استاد ہوں ، تمہیں میری بات ماننی ہوگی ، پانی میں پہلے میں اتروں گا ، سکندر نے برجستہ جواب دیا کہ استاد محترم اس عمل میں آپ کی جان بھی جا سکتی ہے ، لہٰذا! میں ہرگز یہ گوارہ نہیں کروں گا کہ دنیا آپ جیسے لائق استاد سے محروم ہو جائے ، کیونکہ سیکڑوں سکندر مل کر بھی ایک ارسطو پیدا نہیں کر سکتے ہیں ، جب کہ ایک ارسطو سیکڑوں کیا ہزاروں سکندر پیدا کر سکتے ہیں ۔
اسی طرح علامہ اقبال کا مشہور واقعہ جو تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے ، جب انگریز سرکار انہیں ” سر ” کا خطاب دینے لگی تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا ، جس پر گورنر بہت حیران ہوا ، وجہ دریافت کی تو علامہ اقبال نے فرمایا کہ میں صرف ایک ہی صورت میں یہ خطاب قبول کر سکتا ہوں ، جب کہ پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو ” شمس العلماء ” کے خطاب سے نوازا جائے ، یہ سن کر گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کو تو ” سر ” کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں ، آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ، آپ نے بڑے بڑے مقالات اور نظریات تخلیق کیے ہیں ، لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسن نے کیا تخلیق کیا ہے ؟ یہ سن کر علامہ اقبال نے بہت خوبصورت جواب دیا تھا کہ ” مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے ” ، یہ سن کر انگریز گورنر نے ان کے استاد میر حسن شمس العلماء کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا تو علامہ اقبال نے کہا کہ انہیں یہ خطاب دینے کے لیے یہاں نہ بلایا جائے بلکہ ان کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں میرے استاد کے گھر منعقد کیا جائے ، اور پھر ایسا ہی کیا گیا ، اور آج وہی علامہ اقبال کے استاد ” شمس العلماء مولوی میر حسن ” کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔
امام غزالی نے بھی استاد کے بارے میں فرمایا ہے کہ حقیقی باپ نے تو مجھے آسمان سے زمین پر لا دیا ، مگر میرے روحانی باپ نے مجھے زمین سے آسمان پر پہنچا دیا ۔
سرکار کائنات حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو معلم قرار دے کر استاد کے مقام کو سب سے اعلٰی بنا دیا ۔
اسلام نے استاد کو روحانی باپ قرار دیا ہے ، نبی کا وارث قرار دیا ہے ، بلکہ میرا تو یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح پھولوں کو مہک کی ضرورت ہوتی ہے ، سورج کو چمک کی ، چاند کو دمک کی ضرورت ہوتی ہے ، روح کو جسم کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی طرح معاشرے کو استاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اللّٰہ رب العزت ہم تمام اساتذہ ، طلباء وطالبات اور والدین کو بھی اپنی اپنی زمہ داریاں نبھانے کی توفیق نصیب عطا فرمائے ۔
آمین ثم آمین یارب العالمین