آئیے انسانیت کو ظلمت سے نور کی طرف بلائیں

76

ذوالقرنین احمد (چکھلی ضلع بلڈانہ)

جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کی طرف سے ریاستی سطح پر ہمارے برادران وطن کو کلمہ حق اسلام کی دعوت دینے کیلئے “اندھیروں سے اجالے کی طرف” عنوان کے تحت دس روزہ دعوتی مہم ۲۲ تا ۳۱ جنوری تک شروع کی جارہی ہیں۔ دعوت دین ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو ایمان والا ہے چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا انپڑھ ہو، امیر ہو غریب ہو، بادشاہ ہو فقیر ہو، سیاستدان ہو وزیر ہو ۔ آج پوری دنیا مغربی تہذیب کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں جو مادہ پرستی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں انسانی اقدار کو پیروں تلے کچل رہی ہیں۔ ہم دیکھ رہے تھے عالمی پیمانے پر جب کورونا وائرس کے پھیلنے کی خبریں موصول ہورہی تھی۔ اس کا مقصد کمزور ممالک کو مزید کمزور کرنا اور دنیا میں سپر پاور بننے کیلئے انسانیت سوز جرائم اور وارداتوں کو انجام دیا گیا ہے۔ معشیت وتجارت کو تباہ کرکے کچھ مخصوص ممالک نے پری پلاننگ کے تحت اپنے فائدے کیلئے دنیا کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔ ظاہری طور پر دنیا ترقی کی طرف بڑھتی دیکھائی دے رہی ہیں لیکن حقیقت میں ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہےجس میں صرف پیسہ، عہدے، اسلحے، سونا،زمین پر قابض ہوکر پاور کے تحت غریب عوام پر حکومت کی جائیں گی۔

 

جس کے نتائج کچھ یوں ہمارے سامنے آرہے ہیں کہ دنیا میں عام عوام پر ظلم وتشدد، حقوق کی پامالیاں اور ناانصافی صنف نازک کو ایک کھلونا سمجھ کر یوز اینڈ تھروں کی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ انسانوں کو پہلے اور دوسرے درجے کے شہری میں بانٹ دیا گیا ہے۔ سود خوری، زنا، حرام خوری، قتل و غارتگری، لوٹ مار، رشوت خوری، عوام کا انصاف اور حقوق کیلئے رشوت دے کر اپنے کام نکالنا، تعلیمی اداروں کو پیسے کمانے کی مشین سمجھ لیا گیا ہے، ڈگریوں اور سرکاری اداروں میں نوکریوں اور عہدوں کی خرید و فروخت، عوامی رائے دہی کے حق کی خرید و فرخت یہ سب آج کے موجودہ حالات میں دیکھنے مل رہا ہے۔ جو دراصل انسانیت سوز جرائم ہیں اور ایسا معاشرہ ظلمت و گمراہیوں کےعمیق اندھیروں میں گم ہوچکا ہے۔ جسے اپنی منزل کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ جو موجودہ دور کی مادہ پرستی کی وقتی چمک دمک کی تاریک بھول بھلیوں میں گم ہوکر اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ کر رہا ہے۔

 

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاشرے کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ عظیم الشان نعمت زندگی کو گمراہوں اور دنیا کی عارضی رنگینیوں میں ڈوب کر بے پرواہ ہوکر یونہی تباہ و برباد کر رہا ہے۔ اور جن افراد کے پاس اصل نور ہے جس میں زندگی کا مقصد عیاں ہے۔ جس میں پیدا کرنے والے رب کا تعارف موجود ہے، جس میں آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا پیغام موجود ہے۔ جس میں دنیا کی ظلمت اور گمراہیوں سے نکالنے کا راستہ موجود ہے۔ جس میں علم کی روشنی و جہالت کی تباہی کو واضح کیا گیا ہے۔ جس میں زندگی گزارنے کا طریقہ موجود ہے۔جس میں دنیا کے مسائل کا حل موجود ہے۔ جس میں تاریکیوں سے روشنی کی طرف آنے کا راستہ موجود ہے۔ جس میں مرنے کے بعد کی لامحدود آخرت کی زندگی کا راز پنہا ہے۔ آج اس کلمہ حق ایمان کی روشنی کو ہم نے اپنے آپ تک محدود کر رکھا ہےجو کہ ہمارے پاس امانت ہے۔ جسے دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم ایمان والوں پر عائد کی گئی ہے۔

 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں آپ ﷺ نے آخری خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر کم و بیش سوا لاکھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا تھاکہ جو حاضرین ہے وہ میری بات غائبین تک پہنچائیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری طرف سے پہنچاؤں چاہے ایک آیت کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا ہے کہ پیارے نبی آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا ہے اور اس بنا پر ہر ایمان والے کا یہ فرض ہے کہ وہ اس ایمان کی روشنی کو ان افراد تک پہنچانے کی کوشش کریں جو آج اپنے پیداکرنے والے رب کو بھول کر پتھروں میں خدا کو تلاش رہے ہیں۔ اور اس گمراہی کے نتیجے میں اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر رہے ہیں۔ باطل طاقتیں جو دراصل ایک خدا کو نہیں مانتی ہے ان کے ذہنوں اور دلوں میں عالمی پیمانے پر جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پیدا کی گئی ہے یہ اسلام کا غلط تصور باطل کی طرف سے انکے ذہنوں میں داخل کیاگیا ہے۔اور یہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس کے پیچھے تمام مسلمانوں کی غفلت بھی موجود ہیں کہ آج یہ نفرت کی آگ اس طرح بھڑک چکی ہے کہ سرے عام مسلمان ہونے کے وجہ سے داڑھی ٹوپی کرتا پائجامہ ہونے کی وجہ مآب لینچینگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ داڑھی ٹوپی والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ جھوٹے الزامات میں گرفتاریاں کی جاتی ہے۔ اور مسلمانوں کو امن و امان کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

 

ہم نے دیکھا ہمارے ملک بھارت میں کس طرح کورونا وائرس پھیلانے کے نام پر تبلیغی جماعت کے افراد کو بے وجہ ذمہ دار ٹھہرایا گیا میڈیا کے ذریعے جھوٹ پھیلا کر ایک پروپیگنڈہ کیا گیاجس میں ہمارے برادران وطن کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ پیدا کی گئی اور اس کا اثر ہم آج تک محسوس کر رہے ہیں کہ انسانیت کو بانٹ کر کسطرح سے فرقہ پرست عناصر اپنی روٹیاں سینکتے ہیں عوام کو آپس میں مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر لڑا کر اپنی کرسیاں بچاتے ہیں۔ یہ سارے الزامات اس وجہ سے لگ رہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کلمہ حق لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی روشنی ان افراد تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی جن تک اللہ کے ایک ہونے اور محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہونے کے پیغام کو پہنچانا ضروری نہیں سمجھا اگر ہم اسلام کا صحیح مفہوم قول و فعل کے ذریعے اپنے بردارن وطن کو پیش کرتے تو آج جتنی نفرت آگ اور فرقہ پرستی نفرت کے بیج بونے والوں نے پھیلائیں ہے اتنی نفرت نہیں پھیلتی اگر ہم اسلام کی دعوت پیش کرنے کا کام ستر سالوں سے کرتے تو عوام حقیقت اور سچائی کو جانتی اور ظلمت کے اندھیروں کو چاک کرتے ہوئے ایمان کے نور کی طرف دوڑ کر آتی ۔

 

آج تمام مسلمانوں کو ملی تنظیموں اور جماعتوں کو اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ تبلیغ کا کام اصل میں وہ کام ہے جس کے ذریعے سے پتھر دلوں کو موم کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے سے تمام دنیا کی سسکتی بلکتی انسانیت کو ظلمت کی گمراہیوں بھری زندگیوں سے نکال کر اللہ کے نور سے منور کیاجا سکتا ہے۔ ہماری جماعتوں اور ملی تنظیموں نے صرف مسلمانوں میں تبلیغ کرنے کو ہی تبلیغ سمجھا آزادی کے قبل سے تبلیغ کا کام تو ہورہا ہے لیکن بنیاد اور مقصد مسلمانوں کی اصلاح ہے جبکہ تبلیغ کا کام نبی کریم ﷺ نے غیر مسلموں کو کفار مکہ، قریش مکہ ، طائف کے سرداروں میں کیا تھا یہ تبلیغ کا کام ہے۔ کلمہ حق کی دعوت پیش کرنا چاہے وہ اپنے زبان سے کریں یا پھر خود دین اسلام کا عملی نمونہ پیش کریں اپنی تجارت و معاشرت اخلاق و کردار کے ذریعے ہم اسلام کا صحیح مفہوم اور تصور ظلمت و گمراہیوں میں پڑی انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ جس کام کو تبلیغ اور دعوت اسلامی کا نام دے کر مسلمانوں کی اصلاح کی جارہی ہیں اصل میں وہ کام مسلمانوں کی اصلاح کا کام ہے وہ معاشرے کی اصلاح کا کام ہے۔جبکہ دعوت اسلامی اور تبلیغ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت ان غیر ایمان والوں تک پہنچانا ہے جواللہ اور اسکے رسولﷺ کے دیے گئے ایمان کے نور سے محروم ہے اور تاریکیوں میں زندگی گزار رہے ہیں دراصل وہ لوگ جہنم کی آگ کےکنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اسی طرح کفر پر مرتے ہیں تو وہ سیدھے بغیر حساب کتاب کے ہمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں داخل ہوگے اس لیے یہ ذمہ داری صرف کسی ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی ہیں کہ وہ اسلام کی دعوت ان تمام انسانوں تک اپنے قول و فعل کے ذریعے پہنچائیں جو جہنم کی آگ کے کنارے کھڑی ہوئیں ہیں۔